حدیث نمبر: 4288
٤٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) سفيان (٢) بن عيينة عن أيوب بن موسى عن عطاء بن ميناء عن أبي هريرة قال: سجدنا مع رسول اللَّه ﷺ في: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [الانشقاق: ١]، و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [العلق: ١] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سورة الانشقاق اور سورة العلق میں سجدہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4289
٤٢٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر (بن) (١) عمرو بن حزم عن عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ سجد في: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورة الانشقاق میں سجدہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 4290
٤٢٩٠ - حدثنا هشيم قال نا علي بن زيد بن جدعان عن أبي رافع قال: صليت خلف أبي هريرة بالمدينة العشاء الآخرة قال: فقرأ فيها: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ فسجد فيها فقلت (له) (١): تسجد فيها؟ فقال: رأيت خليلي أبا القاسم ﷺ سجد فيها فلا أدع ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کے ساتھ مدینہ میں عشاء کی نماز پڑھی۔ انہوں نے اس میں سورة الانشقاق کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ اس سورت میں سجدہ کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا اس کے بعد سے میں بھی یونہی کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 4291
٤٢٩١ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن أبي إسحاق عن الأسود عن عبد اللَّه قال: سجد رسول اللَّه ﷺ في النجم فما بقي (١) أحد إلا سجد معه إلا شيخا ⦗٤٢٩⦘ أخذ (٢) كفا من تراب فرفعه إلى جبهته قال: فلقد رأيته قُتل (٣) كافرا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورة النجم میں سجدہ کیا تو سب لوگوں نے سجدہ کیا۔ البتہ ایک بوڑھے نے مٹی کی ایک مٹھی لے کر اسے اپنی پیشانی تک بلند کرلیا۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ کفر حالت میں مرا۔
حدیث نمبر: 4292
٤٢٩٢ - حدثنا معاذ بن معاذ عن علي بن سويد بن منجوف قال: (أنا) (١) أبو رافع الصائغ قال: صلى بنا عمر صلاة العشاء (٢) الآخرة فقرأ في إحدى الركعتين الأوليين (٣) ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ فسجد وسجدنا معه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع صائغ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ انہوں نے پہلی دو رکعتوں میں سے ایک رکعت میں سورة الانشقاق کی تلاوت کی اور اس میں انہوں نے سجدہ کیا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4293
٤٢٩٣ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم (عن الأسود) (١) قال: رأيت عمر و (٢) عبد اللَّه يسجدان في: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ أو أحدهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر اور حضرت عبداللہ دونوں کو یا دونوں میں سے ایک کو دیکھا کہ انہوں نے سورة الانشقاق میں سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4294
٤٢٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن المسعودي عن ابن الأصبهاني عن أبي عبد الرحمن عن ابن مسعود أنه كان يسجد في: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورة الانشقاق میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4295
٤٢٩٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر (عن) (١) داود عن أبي العالية أن النبي ﷺ سجد في النجم والمسلمون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ سورة النجم کی تلاوت میں حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں نے سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4296
٤٢٩٦ - حدثنا هشيم قال أنا مغيرة عن إبراهيم عن عبد اللَّه بن مسعود أنه كان يسجد في (الأعراف)، و (بني إسرائيل) و (النجم) و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورة الاعراف، سورة بنی اسرائیل، سورة النجم اور سورة العلق میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4297
٤٢٩٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن الشعبي عن عبد اللَّه (أنه) (١) سجد في (النجم) و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ نے سورة النجم اور سورة العلق میں سجدہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 4298
٤٢٩٨ - حدثنا هشيم عن شعبة عن عاصم عن زر (عن علي) (١) قال: عزائم السجود ﴿الم تنزيل﴾ و [﴿حم - تَنْزِيلُ﴾] (٢) و (النجم) و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر فرماتے ہیں کہ اعلیٰ سجدے سورة الم تنزیل، سورة حم تنزیل، سورة النجم اور سورة العلق کے ہیں۔
حدیث نمبر: 4299
٤٢٩٩ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن الشعبي أن رسول اللَّه ﷺ (قرأ ﴿وَالنَّجْمِ﴾ فسجد) (١) فيها المسلمون والمشركون والجن والإنس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورة النجم کی تلاوت فرمائی اور مسلمانوں، مشرکین، جنات اور انسانوں نے سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4300
٤٣٠٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن عاصم عن قسامة بن زهير قال: كان يسجد في (النجم) و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قسامہ بن زہیر سورة النجم اور سورة الانشقاق میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4301
٤٣٠١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر عن (سليمان) (٢) بن حبيب قال: سجدت مع عمر بن عبد العزيز في: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے ساتھ سورة الانشقاق میں سجدہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4302
٤٣٠٢ - [حدثنا حفص عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) قال رأيت إبراهيم يسجد في ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو سورة الانشقاق میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4303
٤٣٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: كان يسجد في (النجم) وفي ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ إلا أن يقرأ بهما في صلاة مكتوبة فإنه كان لا يسجد بهما ويركع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سورة النجم اور سورة العلق میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ البتہ اگر انہیں فرض نماز میں پڑھتے تو ان میں سجدہ نہیں کرتے تھے اور رکوع کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4304
٤٣٠٤ - حدثنا (محمد) (١) بن أبي عدي عن ابن عون قال: قرأ محمد: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ وأنا جالس فسجد فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ محمد نے سورة الانشقاق کی تلاوت کی اور پھر اس میں سجدہ کیا۔ حالانکہ میں بیٹھا تھا۔
حدیث نمبر: 4305
٤٣٠٥ - حدثنا أبو بكر (بن) (١) عياش عن عاصم عن زر قال: قرأ عمار على المنبر: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾، ثم نزل إلى القرار فسجد بها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے منبر پر سورة الانشقاق پڑھی۔ پھر زمین پر اتر کر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4306
٤٣٠٦ - حدثنا ابن علية عن علي بن زيد عن زرارة بن أوفى عن مسروق بن الأجدع أن عثمان قرأ في العشاء بالنجم فسجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے عشاء کی نماز میں سورة النجم پڑھی اور سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4307
٤٣٠٧ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: سجد رسول اللَّه ﷺ والمسلمون في (النجم) إلا رجلين من قريش أرادا (١) بذلك الشهرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور مسلمانوں نے سورة النجم کی تلاوت پر سجدہ کیا۔ البتہ قریش کے دو آدمیوں نے شہرت کی غرض سے سجدہ نہ کیا۔
حدیث نمبر: 4308
٤٣٠٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: رأيت عبد اللَّه يسجد في: ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ کو سورة الانشقاق میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔