٤٢٣٦ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: كنا نقرأ على أبي عبد الرحمن ونحن نمشي فإذا مر بالسجدة كبَّر (١) وأومأ وسلم وزعم أن ابن مسعود كان يصنع ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے حضرت ابو عبد الرحمن سے پڑھا کرتے تھے۔ جب وہ کوئی آیتِ سجدہ پڑھتے تو اللہ اکبر کہہ کر اشارے کے ساتھ جھکتے اور سلام پھیرتے تھے۔
٤٢٣٧ - حدثنا شريك عن الأعمش عن إبراهيم أن أصحاب عبد اللَّه كانوا يقرؤون السجدة وهم يمشون فيومئون إيماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے شاگرد اگر چلتے ہوئے آیتِ سجدہ پڑھتے تو اشارے سے جھک جایا کرتے تھے۔
٤٢٣٨ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن الأسود أنه كان يقرؤها وهو يمشي فيومئ إيماءً] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود اگر چلتے ہوئے آیتِ سجدہ پڑھتے تو اشارے سے جھک جایا کرتے تھے۔
٤٢٣٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم (عن علقمة) (١) أنه كان يومئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ اگر چلتے ہوئے آیتِ سجدہ پڑھتے تو اشارے سے جھک جایا کرتے تھے۔
٤٢٤٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث قال: سألت كردوسا عن السجدة يقرؤها الرجل وهو يمشي قال: يومئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کہتے ہیں کہ میں نے کردوس سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی چلتے ہوئے آیت سجدہ پڑھے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اشارے سے جھک جائے۔
٤٢٤١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الواحد بن زياد قال حدثني عمارة (١) بن القعقاع عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير أنه ذكر الإيماء وذكرت له أن إبراهيم قرأها في مسير له فأومأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن قعقاع فرماتے ہیں کہ ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے آیت سجدہ پڑھنے پر جھکنے کا ذکر کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ ابراہیم نے ایک مرتبہ چلتے ہوئے آیت سجدہ پڑھی تو اشارے سے جھک گئے تھے۔
٤٢٤٢ - حدثنا عبدة عن الأعمش عن إبراهيم التيمي قال: كنت أعرض على (أبي) (١) ويعرض علي في الطريق، فيمر بالسجدة فيسجد (٢) فقلت له: أتسجد في الطريق؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ بعض اوقات کسی راستے میں میں اور میرے والد اکٹھے ہوتے، اگر کبھی وہ آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے۔ میں ان سے پوچھتا کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں ؟ وہ فرماتے ہاں۔
٤٢٤٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس قال: قلت لأبي العالية: إني (آخذ) (١) في سكة ضيقة فأسمع القارئ يقرأ السجدة فاسجد على الطريق؟ قال: نعم، أسجد على الطريق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن انس کہتے ہیں کہ میں نے ابو عالیہ سے پوچھا کہ میں بعض اوقات کسی تنگ گلی سے گذروں اور کسی قرآن پڑھنے والے کو آیت سجدہ کی تلاوت کرتے سنوں تو کیا میں راستے میں سجدہ کرلوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، راستہ میں سجدہ کرلو۔
٤٢٤٤ - حدثنا ابن علية عن خالد عن محمد أن ابن مسعود كان يقرأ وهو يمشي فيأتي (١) السجدة فيتنحى فيسجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اگر حضرت ابن مسعود چلتے ہوئی کبھی تلاوت کررہے ہوتے اور آیت سجدہ آجاتی تو ایک طرف ہوکر سجدہ کیا کرتے تھے۔
٤٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا (١) محمد بن فضيل عن عبد الملك بن أبي سليمان (عن) (٢) سلمة بن كهيل قال: إذا قرأت السجدة وأنت تمشي فضع جبهتك على أول حائط تلقى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل فرماتے ہیں کہ جب تم چلتے ہوئے آیت سجدہ کی تلاوت کرو تو جو پہلی دیوار آئے اس پر اپنی پیشانی لگا لو۔