کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
٣٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن عاصم (بن) (١) عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن رافع بن خديج قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرو، کیونکہ اس میں زیادہ اجر ہے۔
٣٢٧٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: كنا نصلي الفجر فيقرأ أمامتا بالسورة من (المئين) (١)، وعلينا ثيابنا، ثم نأتي ابن مسعود فنجده في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم فجر کی نماز پڑھتے تھے، ہمارا امام مئین میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا تھا، ا س وقت ہم اپنے معمول کے کپڑوں میں ہوتے، پھر ہم ابن مسعود کے پاس آتے تو وہ ابھی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔
٣٢٧٧ - حدثنا شريك عن سعيد بن عبيد عن علي بن ربيعة أن عليا قال: يا ابن (النباح) (١) أسفر بالفجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” اے ابن نباح ! فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کرو۔
٣٢٧٨ - حدثنا (معتمر) (١) عن ليث عن عبد الرحمن بن الأسود: أن ابن (مسعود) (٢) كان (ينور) (٣) بالفجر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے۔
٣٢٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن أبي روق عن زياد بن المقطع قال: رأيت الحسين ابن علي أسفر بالفجر جدا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن مقطع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے فجر کی نماز کو بہت زیادہ روشنی میں ادا کیا۔
٣٢٨٠ - حدثنا ابن مهدي عن معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية عن جُبير بن (نُفير) (١) قال: صلى بنا معاوية بغلس فقال أبو الدرداء: أسفروا بهذه الصلاة فإنه أفقه لكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی تو حضرت ابو الدرداء نے فرمایا کہ اس نماز کو روشنی میں پڑھو کیونکہ یہ زیادہ سمجھداری والی بات ہے۔
٣٢٨١ - حدثنا (ابن فضيل) (١) عن رضي بن أبي عقيل عن أبيه قال: كان ربيع ابن جبير يقول له، وكان مؤذنه: يا أبا عقيل نِّور نِّور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن عقیل اپنے مؤذن کو حکم دیا کرتے تھے ” اے ابو عقیل ! روشنی ہونے دو ، روشنی ہونے دو ۔
٣٢٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كان ابن مسعود ينوِّر بالفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزیدکہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعودفجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے۔
٣٢٨٣ - [حدثنا وكيع عن عثمان بن أبي هند: أن عمر بن عبد العزيز كان يسفر بالفجر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے۔
٣٢٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش قال: كان أصحاب عبد اللَّه يسفرون بالفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے اصحاب فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے۔
٣٢٨٥ - حدثنا (وكيع) (١) عن سفيان عن (عبيد) (٢) المكَتِّب عن إبراهيم: أنه كان ينور بالفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید المکتب کہتے ہیں کہ ابراہیم فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے۔
٣٢٨٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أسفروا بالفجر، فإنكم كلما أسفرتم كان أعظم للأجر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کرو، تم اسے جتنا زیادہ روشن کرو گے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
٣٢٨٧ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد قال: كانوا يحبون أن ينصرفوا من صلاة الصبح (وأحدهم) (١) يرى (موقع) (٢) نبله.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ جب وہ فجر کی نماز سے فارغ ہوں تو اتنی روشنی ہو کہ تیرپھینکنے کی مسافت جتنی جگہ سے چیز نظر آجائے۔
٣٢٨٨ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الحسن بن عبيد اللَّه عن (بشر) (١) بن عروة قال: سافرت مع علقمة فكان ينور بالصبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ کے ساتھ سفر کیا وہ فجر کی نماز کور وشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
٣٢٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: ما أجمع أصحاب محمد ﷺ على شيء ما أجمعوا على التنوير بالفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا کسی بات پر اتنا اتفاق نہیں تھا جتنا اتفاق فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھنے کے بارے میں تھا۔
٣٢٩٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن (نفاعة) (١) بن مسلم قال: كان سويد بن غفلة يسفر بالفجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نفاعہ بن مسلم کہتے ہیں کہ سوید بن غفلہ فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
٣٢٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (وقاء) (١) بن حبيب عن سعيد بن جبير: أنه كان ينور بالفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وقاء فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
٣٢٩٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق عن رجل: أن (أناسا) (١) أصحاب عبد اللَّه كانوا يسفرون بصلاة الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے شاگرد فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
٣٢٩٣ - [حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي حصين عن خرشة قال: صلى عمر بالناس (الفجر) (١) فغلس ونور، وصلى بهم فيما بين ذلك] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے لوگوں کو فجر کی نماز اندھیرے میں بھی پڑھائی اور روشنی میں بھی اور ان دونوں کے درمیانی وقت میں بھی پڑھائی۔
٣٢٩٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عُمير قال: صلى المغيرة بن شعبة الصبح فغلس (ونور) (١) حتى قلت: قد طلعت الشمس، أو لم تطلع، وصلى فيما بين ذلك، وكان مؤذنه ابن (النباح) (٢) ولم يكن له مؤذن غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے صبح کی نماز اندھیرے میں بھی پڑھائی اور روشنی میں بھی۔ یہاں تک کہ میں نے کہا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا سورج طلوع نہیں ہوا ! انہوں نے ان دونوں وقتوں کے درمیان بھی فجر کی نماز ادا کی ہے۔ ان کے مؤذن ابن النباح تھے، ان کے علاوہ ان کا کوئی مؤذن نہ تھا۔
٣٢٩٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (سدوس) (١) رجل من الحي: أن الربيع قال: نور نور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرمایا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کے لئے روشنی ہونے دو ، روشنی ہونے دو ۔
٣٢٩٦ - حدثنا ابن مهدي عن (سفيان عن) (١) الركين الضبي قال: سمعت تميم بن (حذلم) (٢) و (كان) (٣) من أصحاب (النبي ﷺ) (٤) ⦗٢٠٦⦘ يقول: نور نور (بالصلاة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن حذلم جو کہ ایک صحابی ہیں فرمایا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کے لئے روشنی ہونے دو ، روشنی ہونے دو ۔