کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی ، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
٣٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (حكيم) (١) بن خبير عن إبراهيم عن الأسود (عن عائشة) (٢) (قالت) (٣): ما رأيت أحدا كان أشد تعجيلا للظهر من رسول اللَّه ﷺ ولا أبو بكر ولا عمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ظہر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ جلدی کرتے ہوئے کسی کو نہ دیکھا، نہ حضرت ابوبکر کو نہ حضرت عمر کو۔
٣٢٩٨ - حدثنا جرير عن التيمي عن أبي عثمان قال: كان عمر يصلي الظهر حين (تزول) (١) الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت عمر سورج کے زوال کے بعد ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
٣٢٩٩ - حدثنا وكيع قال: نا الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق قال: صلى بنا عبد اللَّه بن مسعود الظهر حين زالت الشمس، ثم قال: (هذا) (١) والذي ⦗٢٠٧⦘ لا إله غيره وقت هذه الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں سورج کے زوال کے بعد ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ اس نماز کا وقت ہے۔
٣٣٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق قال: لما زالت الشمس جاء أبو موسى فقال: أين صاحبكم؟ هذا وقت هذه الصلاة، فلم يلبث أن جاء عبد اللَّه مسرعًا فصلى الظهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جب سورج زائل ہوگیا تو حضرت ابو موسیٰ آئے اور فرمایا کہ تمہارا امام کہاں ہے ؟ یہ اس نماز کا وقت ہے۔ اتنے میں جلدی سے حضرت عبد اللہ آئے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔
٣٣٠١ - حدثنا ابن علية عن عوف قال: حدثني أبو المنهال قال: انتهيت مع أبي إلى أبي (برزة) (١) فقال: حدثنا كيف كان رسول اللَّه ﷺ يصلي المكتوبة؟ فقال: كان يصلي الهجير التي تدعونها الأولى حين تدحض الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابو برزہ کے پاس حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے کہا کہ ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز کیسے ادا کیا کرتے تھے ؟ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
٣٣٠٢ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة: قالت أم سلمة: كان رسول اللَّه ﷺ أشد تعجيلا للظهر منكم، وأنتم أشد تأخيرا للعصر منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر میں تم سے زیادہ تعجیل کرنے والے تھے، اور تم عصر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ تاخیر کرنے والے ہو۔
٣٣٠٣ - حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) القطان عن حبيب بن شهاب عن أبيه قال: سألت أبا هريرة عن وقت الظهر فقال: إذا زالت الشمس عن نصف النهار، وكان الظل (قيس) (٢) الشراك فقد قامت الظهر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن شہاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے ظہر کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب نصف نہار کے وقت سورج زائل ہوجائے اور سایہ تسمے کے برابر ہوجائے تو ظہر کا وقت ہوگیا۔
٣٣٠٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثني ميمون بن مهران: أن سويد بن غفلة كان يصلي الظهر حين تزول الشمس، فأرسل إليه الحجاج لا تسبقنا بصلاتنا، فقال سويد: قد صليتها مع أبي بكر وعمر هكذا، والموت أقرب إليَّ من أن أدعها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ سورج کے زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔ حجاج نے انہیں پیغام بھجوا کر کہا کہ ہم سے پہلے نماز نہ پڑھا کریں۔ حضرت سوید نے جواب میں فرمایا کہ میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ساتھ یونہی نماز پڑھی ہے۔ مجھے اس عمل کو چھوڑنے سے موت زیادہ پسند ہے۔
٣٣٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن سميع عن مسلم البطين عن أبي البختري قال: كان (علي) (١) ينصرف من (الهجير) (٢) في الحر، ثم ينطلق المنطلق إلى قباء فيجدهم يصلون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ گرمیوں میں حضرت عمرظہر کی نماز پڑھ کر قباء کی طرف جاتے تو وہاں لوگ ابھی نماز ظہر پڑھ رہے ہوتے تھے۔
٣٣٠٦ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن سماك عن جابر بن (سمرة) (١) قال: كان بلال يؤذن إذا دحضت الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال سورج کے زوال کے بعد اذان دیا کرتے تھے۔
٣٣٠٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (سعيد) (١) بن وهب عن (خباب) (٢) قال. شكونا إلى رسول اللَّه ﷺ الصلاة في الرمضاء فلم يشكنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خباب فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی کہ شدید گرمی میں نماز پڑھنا مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری اس شکایت کو قبول نہ فرمایا۔
٣٣٠٨ - حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن عمرو عن سعيد بن الحارث عن جابر بن عبد اللَّه قال: كنت أصلي مع رسول اللَّه ﷺ الظهر فآخذ قبضة من الحصى ⦗٢٠٩⦘ فأجعلها في كفي، ثم أحولها إلى الكف الأخرى حتى تبرد، ثم أضعها (لجبيني) (١) حين (أسجد) (٢) من شدة الحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ میں شدید گرمی کی وجہ سے ایک مٹھی کنکریوں کی پکڑتا اور اسے پہلے ایک ہتھیلی میں اور پھر دوسری ہتھیلی میں رکھتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں، پھر میں انہیں سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کی جگہ رکھتا تھا۔
٣٣٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة (قال) (١): كنا نصلي معه الظهر أحيانا نجد ظلا نجلس فيه، وأحيانا لا نجد (ظلا) (٢) نجلس فيه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علقمہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتے تھے، کبھی تو ہمیں سایہ مل جاتا جس میں ہم بیٹھتے اور کبھی ہمیں بیٹھنے کے لئے سایہ نہ ملتا۔
٣٣١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن جبير عن (خشف) (١) بن مالك قال: صلى بنا عبد اللَّه وإن (الجنادب) (٢) (لتنقز) (٣) من شدة الرمضاء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خشف بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس وقت شدید گرمی کی وجہ سے ٹڈیاں ادھر ادھر اچھل رہی تھیں۔
٣٣١١ - حدثنا حفص عن (١) أبي (العنبس) (٢) قال: سألت أبي قلت: صليت مع علي فأخبرني كيف كان يصلي (الظهر) (٣)؟ (قال: كان يصلي الظهر) (٤) إذا زالت الشمس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العنبس کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، مجھے بتائیے کہ وہ ظہر کی نماز کیسے پڑھتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ سورج کے زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے۔
٣٣١٢ - حدثنا حسين بن علي قال: سألت جعفرا عن وقت الظهر فقال: إذا زالت الشمس، ثم قال: (اسمع) (١)؛ لأن (يؤخرها) (٢) رجل حتى يصلي العصر خير له من أن يصليها قبل أن تزول (الشمس) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر سے ظہر کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب سورج زائل ہوجائے۔ پھر فرمایا کہ غور سے سن لو کہ آدمی ظہر کی نماز کو اتنا مؤخر کردے کہ عصر کی نماز کا وقت ہوجائے ، اس سے بہتر ہے کہ سورج کے زوال سے پہلے ظہر کی نماز پڑھ لے۔