کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں؟
❮
❯
٢٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر وزيد بن ثابت (قالا) (١): إذا أدرك الرجل القوم ركوعا فإنه يجزئه تكبيرة واحدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص امام کو حالت رکوع میں مل جائے تو اس کے لئے ایک تکبیر کہنا کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2527
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2527، ترقيم محمد عوامة 2520)
٢٥٢٨ - حدثنا وكيع عن إبراهيم بن إسماعيل عن الزهري عن عروة بن الزبير وزيد بن ثابت: أنهما كانا يجيئان والإمام راكع، (فيكبران) (١) تكبيرة الافتتاح للصلاة وللركعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت زید بن ثابت امام کے رکوع میں ہونے کی حالت میں اگر نماز میں شریک ہوتے تو رکوع اور نماز کے لئے ایک ہی تکبیر کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2528
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2528، ترقيم محمد عوامة 2521)
٢٥٢٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: (تكبيرة) (١) واحدة تجزئك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے ایک تکبیر کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2529
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2529، ترقيم محمد عوامة 2522)
٢٥٣٠ - حدثنا ابن علية قال: قلت لابن أبي نجيح: الرجل ينتهي إلى القوم وهم ركوع فيكبر تكبيرة ويركع، قال: كان مجاهد يقول: تجزئه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی نجیح سے پوچھا کہ آدمی جماعت میں اس حال میں شریک ہو کہ لوگ حالت رکوع میں ہیں تو کیا وہ ایک تکبیر کہہ کر رکوع کرلے ؟ وہ فرمانے لگے کہ حضرت مجاہد فرمایا کرتے تھے کہ اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2530
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2530، ترقيم محمد عوامة 2523)
٢٥٣١ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: تجزئه التكبيرة (وإن) (١) زاد فهو أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر جائز ہے اگر زیادہ کہے تو افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2531
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2531، ترقيم محمد عوامة 2524)
٢٥٣٢ - حدثنا غندر عن سعيد عن قتادة عن ابن المسيب قال: تجزئه التكبيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن المسیب فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2532، ترقيم محمد عوامة 2525)
٢٥٣٣ - حدثنا ابن مهدي عن (أبي عمارة) (١) عن بكر قال: سمعته يقول: كبر تكبيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر کہہ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2533، ترقيم محمد عوامة 2526)
٢٥٣٤ - حدثنا خالد بن (حيان) (١) عن جعفر عن ميمون (قال) (٢): تجزئه تكبيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2534
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2534، ترقيم محمد عوامة 2527)
٢٥٣٥ - حدثنا ابن عليه عن يونس عن الحسن: أنه كان يستحب أن يكبر تكبيرتين فإن عجل (أو) (١) نسي فكبر تكبيرة أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ آدمی دو تکبیریں کہے۔ اگر جلدی میں یا بھول کر ایک تکبیر کہہ لی تو پھر بھی جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2535، ترقيم محمد عوامة 2528)
٢٥٣٦ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم فقال: تجزئه تكبيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2536
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2536، ترقيم محمد عوامة 2529)