٢٥٣٧ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر عن عمر بن عبد العزيز قال: يكبر تكبيرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدا لعزیز فرماتے ہیں کہ دو تکبیریں کہے گا۔
٢٥٣٨ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (عن ربيع) (٢) عن إبراهيم (الحنفي) (٣) قال: سألت ابن سيرين عن الرجل يجيء إلى الإمام وهو راكع قال: ليفتتح الصلاة بتكبيرة، ويكبر للركوع فإن لم يفعل فلا يجزئه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حنفی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اس حال میں جماعت کے ساتھ شامل ہو جبکہ امام رکوع کی حالت میں ہو۔ فرمایا وہ نماز میں شامل ہونے کے لئے تکبیر تحریمہ کہے اور پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔
٢٥٣٩ - [حدثنا إسحاق بن منصور عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: يكبر تكبيرة (الافتتاح) (١)، ويكبر للركوع] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر نماز میں شامل ہونے کے لئے اور ایک تکبیر رکوع کے لئے کہے گا۔
٢٥٤٠ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن (أبي) (١) عبد الرحمن قال: يكبر تكبيرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ دو تکبیریں کہے گا۔