کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک صرف تکبیر تحریمہ میں ہاتھ بلند کئے جائیں گے
٢٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (ابن أبي ليلى) (١) عن الحكم وعيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن البراء بن عازب: أن النبي ﷺ كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه، ثم لا يرفعهما حتى يفرغ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اسی وقت ہاتھوں کو بلند کیا کرتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہونے تک ہاتھوں کو بلند نہیں کیا کرتے تھے۔
٢٤٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن (عبد الرحمن) (١) بن الأسود عن علقمة عن عبد اللَّه قال: ألا أريكم صلاة رسول اللَّه ﷺ فلم يرفع يديه إلا مرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں ؟ پھر آپ نے نماز پڑھی اور صرف ایک مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔
٢٤٦٣ - حدثنا وكيع عن أبي بكر بن عبد اللَّه بن (قطاف) (١) النهشلي عن عاصم بن كليب عن أبيه: أن عليا كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة ثم لا يعود (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیصرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے، پھر اس کے بعد ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔
٢٤٦٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي (معشر) (١) عن إبراهيم عن عبد اللَّه: أنه كان يرفع يديه في أول ما (يفتتح) (٢) ثم لا يرفعهما (٣)،
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ صرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے، پھر اس کے بعد ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔
٢٤٦٥ - حدثنا ابن مبارك عن أشعث عن الشعبي: أنه كان يرفع يديه في أول (التكبير) (١) ثم لا يرفعهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی صرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے، پھر اس کے بعد ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔
٢٤٦٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين ومغيرة عن إبراهيم؛ أنه كان يقول: إذا كبرت في فاتحة (الصلاة) (١) فارفع يديك، ثم لا ترفعهما فيما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ جب تم نماز شروع کرنے کے لئے تکبیر کہو تو ہاتھوں کو بلند کرو، پھر باقی نماز میں ہاتھوں کو بلند نہ کرو۔
٢٤٦٧ - حدثنا وكيع وأبو أسامة عن شعبة عن أبي إسحاق قال: كان أصحاب عبد اللَّه وأصحاب علي لا يرفعون أيديهم إلا في افتتاح الصلاة، قال وكيع: ثم لا يعودون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ کے اصحاب صرف نماز کے شروع میں ہاتھ بلند کیا کرتے تھے اس کے بعد وہ رفع یدین نہ کرتے تھے۔
٢٤٦٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن حصين ومغيرة عن إبراهيم قالا، لا ترفع يديك في شيء من الصلاة إلا في الافتتاحة الأولى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سوائے تکبیر تحریمہ کے نماز میں ہاتھ بلند مت کرو۔
٢٤٦٩ - حدثنا أبو بكر عن الحجاج عن (طلحة) (١) عن (خيثمة) (٢) و (عن) (٣) إبراهيم قال: كانا لا يرفعان (أيديهما) (٤) إلا (في بدء) (٥) الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت خیثمہ اور ابراہیم صرف نماز کے شروع میں ہاتھ بلند کیا کرتے تھے۔
٢٤٧٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن إسماعيل قال: كان قيس يرفع يديه أول ما يدخل في الصلاة ثم لا يرفعهما.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ حضرت قیس صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا کرتے تھے۔
٢٤٧١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: (ترفع الأيدي) (١) في (سبعة) (٢) مواطن: إذا قام إلى الصلاة، وإذا رأى البيت، وعلى الصفا والمروة، (و) (٣) في عرفات، وفي جمع، وعند (الجمار) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صرف سات مقامات پر ہاتھ اٹھائے جائیں گے نماز شروع کرتے وقت 2 جب بیت اللہ پر نگاہ پڑے 3 صفا پر 4 مروہ پر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میدان عرفات میں 6 مزدلفہ میں 7 رمی جمار کرتے وقت۔
٢٤٧٢ - حدثنا معاوية بن (هشام) (١) عن سفيان (عن) (٢) مسلم الجهني قال: كان ابن أبي ليلى يرفع يديه أول شيء إذا كبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم جہنی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو لیلیٰ صرف تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔
٢٤٧٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن حصين عن مجاهد قال: ما رأيت ابن عمر يرفع (يديه) (١) إلا في أول ما يفتتح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صرف نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھاتے دیکھا ہے۔
٢٤٧٤ - حدثنا وكيع عن شريك عن جابر عن الأسود وعلقمة: أنهما كانا يرفعان أيديهما إذا افتتحا ثم لا يعودان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ نماز شروع کرتے وقت تو ہاتھ بلند کرتے تھے اس کے بعد نہیں کرتے تھے۔
٢٤٧٥ - حدثنا يحيى بن آدم عن حسن بن عياش عن عبد الملك بن أبجر عن الزبير بن عدي عن إبراهيم عن الأسود قال: صليت مع عمر فلم يرفع يديه في شيء من صلاته إلا حين افتتح الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ نماز ادا کی، انہوں نے صرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ بلند کئے۔ حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی، ابراہیم اور حضرت ابو اسحاق کو دیکھا کہ وہ صرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ بلند کیا کرتے تھے۔
٢٤٧٦ - قال عبد الملك: ورأيت الشعبي، وإبراهيم، وأبا إسحاق لا يرفعون أيديهم إلا حين يفتتحون الصلاة.