کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا اکیلا آدمی اذان اور اقامت کہے گا
حدیث نمبر: 2296
٢٢٩٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: قال علي: أيما رجل خرج إلى أرض (قيّ) (١) فحضرت الصلاة (فليتخيّر) (٢) أطيب البقاع وأنظفها، فإن كل بقعة تحب أن يذكر اللَّه فيها، (فإن شاء) (٣) أذن وأقام، وإن شاء (أقام إقامة واحدة) (٤) وصلى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آدمی کسی ویران جگہ میں ہو اور نماز کا وقت ہوجائے تو زمین کا کوئی صاف اور پاکیزہ حصہ منتخب کرے۔ کیونکہ زمین کا ہر ٹکڑا چاہتا ہے کہ اس پر اللہ کا ذکر کیا جائے۔ اب اگر وہ چاہے تو اذان اور اقامت کہے اور اگر چاہے تو صرف اقامت کہہ کر نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2296
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2296، ترقيم محمد عوامة 2290)
حدیث نمبر: 2297
٢٢٩٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن (أبي عثمان) (١) عن سلمان قال: لا يكون رجل (٢) بأرض (قيّ) (٣) فيتوضأ فإن لم يجد الماء (يتيمم) (٤)، ثم ينادي ⦗٤٧٠⦘ (بالصلاة) (٥)، ثم يقيمها إلا أمَّ من جنود اللَّه ما لا يرى طرفاه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی ویران جگہ ہو اور وضو کرے، اور اگر پانی نہ ہو تو تیمم کرے، پھر اذان دے پھر اقامت کہے تو درحقیقت اللہ کے ایسے لشکروں کی امامت کراتا ہے جس کے دونوں کناروں تک نظر نہیں جاسکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2297
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2297، ترقيم محمد عوامة 2291)
حدیث نمبر: 2298
٢٢٩٨ - حدثنا ابن علية عن (أبي هارون الغنوي) (١) قال حدثنا أبو عثمان قال: قال سلمان: ما كان (من) (٢) رجل في (أرض) (٣) (قيّ) (٤) فأذن وأقام إلا صلى خلفه من خلق اللَّه ما لا يرى طرفاه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی سنسان زمین میں ہو اور وہ اذان کہہ کر اقامت کہے تو اس کے پیچھے اللہ کی اتنی زیادہ مخلوق نماز پڑھتی ہے جس کے دونوں کناروں پر نظر نہیں جاسکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2298، ترقيم محمد عوامة 2292)
حدیث نمبر: 2299
٢٢٩٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول في الرجل يصلي وحده: يؤذن ويقيم، وقال ابن سيرين عن رجل كان يفقه: (يقيم و) (١) لا يؤذن إلا في صلاة الصبح فإنه يؤذن فيها ويقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اکیلا آدمی اذان بھی کہے گا اور اقامت بھی۔ حضرت ابن سیرین اس آدمی کے بارے میں جو تنہا رہتا ہو فرماتے ہیں کہ وہ اقامت کہے گا اذان نہیں دے گا، البتہ فجر کی نماز میں اذان بھی دے گا اور اقامت بھی کہے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2299
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2299، ترقيم محمد عوامة 2293)
حدیث نمبر: 2300
٢٣٠٠ - حدثنا معتمر عن ابن عون عن إبراهيم قال: كانوا (١) يرون (إذا) (٢) صلى في العصر وحده فإنه تجزئه الإقامة إلا في الفجر فإنه يؤذن ويقيم، قال: وكان ابن سيرين يقول مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف کی رائے یہ تھی کہ اگر کوئی شخص شہر میں اکیلا نماز پڑھ رہا ہے تو اس کے لیے اقامت کافی ہے، البتہ فجر میں اذان اور اقامت دونوں کہے گا۔ حضرت ابن سیرین بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2300
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2300، ترقيم محمد عوامة 2294)
حدیث نمبر: 2301
٢٣٠١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن عطاء أن رجلًا قال له: إذا كنت وحدي أؤذن وأقيم؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے کسی آدمی نے سوال کیا کہ جب میں اکیلے نماز پڑھوں تو کیا اذان اور اقامت دونوں کہوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2301
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2301، ترقيم محمد عوامة 2295)
حدیث نمبر: 2302
٢٣٠٢ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: سألته إذا كنت وحدي عليَّ أذان (١)؟ قال: نعم، أذّن وأقم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سوال کیا کہ جب میں اکیلے نماز پڑھوں تو کیا اذان دینا میرے لیے ضروری ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اذان بھی دو اور اقامت بھی کہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2302
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2302، ترقيم محمد عوامة 2296)
حدیث نمبر: 2303
٢٣٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: كان أبي يؤذن لنفسه ويقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد اپنے لیے اذان دیتے اور اقامت بھی کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2303
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2303، ترقيم محمد عوامة 2297)