٢٢٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن منصور عن إبراهيم في رجل نسي الإقامة في السفر، قال: (يجزئه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر مسافر سفر میں اقامت بھول جائے تو کوئی بات نہیں۔
٢٢٩٠ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في مسافر نسي فصلى بغير أذان ولا إقامة، قال: (يجزئه) (١)، وكان يقول في المقيم مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سفر میں اذان اور اقامت بھول جائے تو کوئی حرج نہیں حسن مقیم کے بارے میں بھی یونہی فرماتے تھے۔
٢٢٩١ - حدثنا فضيل عن منصور عن إبراهيم قال: إذا نسي الإقامة في السفر أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر مسافر سفر میں اقامت بھول جائے تو کوئی بات نہیں۔
٢٢٩٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد الحذاء عن عطاء قال: (إذا كنت) (١) في سفر فلم (تؤذن) (٢) ولم (تقم) (٣) فأعد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر تم حالت سفر میں ہو اور تم نے اذان اور اقامت نہ کہی تو دوبارہ نماز پڑھو۔
٢٢٩٣ - حدثنا ابن فضيل (عن ليث) (١) عن مجاهد قال: إذا نسي الإقامة في السفر أعاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر سفر میں اقامت کہنا بھول جائے تو تو دوبارہ نماز پڑھے۔
٢٢٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إسماعيل بن أمية، وعن ابن جريج عن عطاء في رجل نسي الإقامة قال: يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر گوئی شخص اقامت بھول جائے تو دوبارہ نماز پڑھے۔
٢٢٩٥ - (حدثنا ابن عليه) (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: لا صلاة إلا (بإقامة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نماز تو اقامت کے ساتھ ہوتی ہے۔