کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا مسافر اذان دیں گے یا ان کے لیے اقامت ہی کافی ہے؟
حدیث نمبر: 2277
٢٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن ابن أخي الزهري عن عمه عن محمد بن جبير: أن النبي ﷺ لم (يكن) (١) يؤذن في شيء من الصلاة في السفر إلا بإقامة إلا في صلاة الصبح فإنه كان يؤذن ويقيم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن جبیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نمازوں کے لیے اذان کا حکم نہیں دیتے تھے بلکہ صرف اقامت کا فرماتے تھے البتہ فجر کی نماز میں اذان اور اقامت دونوں ہوا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2277
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2277، ترقيم محمد عوامة 2271)
حدیث نمبر: 2278
٢٢٧٨ - [حدثنا ابن عليه عن أيوب (عن نافع) (١): أن ابن عمر كان يقيم في السفر إلا في صلاة الفجر فإنه كان يؤذن ويقيم] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دورانِ سفر صرف اقامت کہا کرتے تھے البتہ فجر کے وقت اذان اور اقامت دونوں کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2278
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2278، ترقيم محمد عوامة 2272)
حدیث نمبر: 2279
٢٢٧٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن خالد عن أبي قلابة عن مالك بن الحويرث قال: أتيت النبي ﷺ ومعي ابن عم لي، فقال: "إِذَا سَافَرْتُما فَأذِّنا وَأَقيمَا، وَلْيَؤُمُكُمَا أَكْبَرُكُما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن حویرث کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم سفر کرو تو اذان بھی دو اور اقامت بھی کہو اور تم میں سے جو بڑا ہے وہ امامت کرائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2279
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٣٠)، ومسلم (٦٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2279، ترقيم محمد عوامة 2273)
حدیث نمبر: 2280
٢٢٨٠ - حدثنا ابن عليه عن أيوب عن ابن سيرين قال: كانوا (يؤمرون) (١) في السفر أن يؤذنوا ويقيموا، وأن يؤمهم أقرؤهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام سفر میں اذان اور اقامت دونوں کا حکم دیتے تھے نیز کہتے تھے کہ جو زیادہ قاری ہے وہ امامت کرائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2280
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2280، ترقيم محمد عوامة 2274)
حدیث نمبر: 2281
٢٢٨١ - حدثنا وكيع عن يزيد عن ابن سيرين قال: تجزئه الإقامة إلا في الفجر فإنهم كانوا (يقولون) (١) يؤذن ويقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دورانِ سفر باقی نمازوں میں صرف اقامت کافی ہے البتہ نماز فجر میں صحابہ کرام اذان اور اقامت دونوں کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2281
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2281، ترقيم محمد عوامة 2275)
حدیث نمبر: 2282
٢٢٨٢ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن هشام بن عروة قال: قال عروة: إذا كنت في سفر فأذن وأقم، وإن شئت فأقم ولا تؤذن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب تم حالت سفر میں ہو تو اذان بھی کہو اور اقامت بھی اور اگر چاہو تو صرف اقامت کہو اذان مت دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2282
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2282، ترقيم محمد عوامة 2276)
حدیث نمبر: 2283
٢٢٨٣ - حدثنا حماد بن خالد عن أفلح عن القاسم قال: تجزئه الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اقامت کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2283
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2283، ترقيم محمد عوامة 2277)
حدیث نمبر: 2284
٢٢٨٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن إبراهيم قال: إذا كنت في بيتك أو (في) (١) سفرك أجزأتك الإقامة، وإن شئت أذنت غير أن لا تدع أن تثني الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب اپنے کمرے میں ہو یا حالت سفر میں ہو تو اقامت تمہارے لیے کافی ہے اور اگر چاہو تو اذان بھی کہہ لو۔ البتہ اقامت دو دو مرتبہ کہنی ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2284
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2284، ترقيم محمد عوامة 2278)
حدیث نمبر: 2285
٢٢٨٥ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك عن عطاء سئل عن المسافرين يؤذنون ويقيمون قال: تجزئهم الإقامة إلا أن يكونوا متفرقين فيريد أن يجمعهم (فيؤذن) (١) ويقيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ کیا مسافر اذان بھی کہیں گے اور اقامت بھی ؟ فرمایا کہ ان کے لیے اقامت کافی ہے البتہ اگر مسافر مختلف جگہوں میں بکھرے ہوں تو انہیں جمع کرنے کی غرض سے اذان و اقامت دونوں کہی جائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2285
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2285، ترقيم محمد عوامة 2279)
حدیث نمبر: 2286
٢٢٨٦ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: أقمت مع مكحول (بدابق) (١) (خمس عشرة) (٢) فلم يكن يزيد على الإقامة ولا يؤذن.
مولانا محمد اویس سرور
عبدالرحمن بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں حضرت مکحول کے ساتھ پندرہ دن تک مقام دابق میں رہا۔ وہ صرف اقامت کہتے تھے اذان نہیں دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2286
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2286، ترقيم محمد عوامة 2280)
حدیث نمبر: 2287
٢٢٨٧ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر (عن) (١) ميمون بن مهران قال: إذا اجتمع القوم في السفر وكان منزلهم جميعًا (تجزئهم) (٢) الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ سفر میں اکٹھے ہوں اور ان کے ٹھہرنے کی جگہیں بھی قریب ہوں تو اقامت کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2287
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2287، ترقيم محمد عوامة 2281)
حدیث نمبر: 2288
٢٢٨٨ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن أبيه قال: كنا مع أبي موسى بعين التمر في دار البريد، فأذن وأقام، فقلنا له: (كيف) (١) ⦗٤٦٨⦘ (لو) (٢) خرجت إلى البرية؟ فقال: ذلك (وذا) (٣) سواء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ ہم دار البریہ کے علاقے عین التمر میں حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ ہم نے پوچھا کہ اگر آپ کسی ویرانے میں ہوں تو پھر بھی یونہی کریں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ جگہ اور وہ جگہ ایک جیسی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2288
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2288، ترقيم محمد عوامة 2282)