٢٢٧٠ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه: أن ابن أم مكتوم كان يؤذن وهو أعمى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیا کرتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے۔
٢٢٧١ - [حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه: أن ابن أم مكتوم كان يؤذن للنبي ﷺ وهو أعمى] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اذان دیا کرتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے۔
٢٢٧٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل (الأحدب) (١) عن قبيصة بن ⦗٤٦٥⦘ (برمة) (٢) قال: سمعت ابن مسعود يقول: ما أحب أن يكون (مؤذنوكم) (٣) عميانكم، قال: (و) (٤) حسبته قال: ولا قراؤكم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہارے مؤذن نابینا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے قاریوں کا بھی ذکر کیا۔
٢٢٧٣ - حدثنا وكيع عن همام عن (قتادة) (١) عن (عقبة) (٢) عن ابن عباس: أنه كره إقامة الأعمى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نابینا کی اقامت کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٢٢٧٤ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن ابن أبي عروبة عن مالك بن دينار (عن أبي عروبة) (١): أن ابن الزبير كان يكره أن يؤذن المؤذن وهو أعمى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر نابینا کی اذان کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٢٢٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: نا عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: كان للنبي ﷺ مؤذنان: بلال، وابن أم مكتوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے ایک حضرت بلال اور دوسرے حضرت ابن ام مکتوم۔
٢٢٧٦ - حدثنا يونس (بن محمد) (١) (عن) (٢) أبي عروبة عن منصور قال: كان مؤذن إبراهيم أعمى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا مؤذن نابینا تھا۔