٢٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن أبيه عن أبي الزبير مؤذن بيت المقدس قال: جاءنا عمر بن الخطاب فقال: إذا أذنت فترسل، وإذا أقمت (فاحذم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بیت المقدس کے مؤذن حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ہمارے یہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ جب تم اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر کہو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو۔
٢٢٥٥ - حدثنا شريك عن عثمان عن أبي جعفر: أن ابن عمر كان (يرتل) (١) الأذان، ويحدر (٢) الإقامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اذان کو ٹھہر ٹھہر کر اور اقامت کو جلدی جلدی کہا کرتے تھے۔
٢٢٥٦ - حدثنا أبو أسامة وعبد الوهاب بن عطاء عن هشام عن الحسن ومحمد (قال) (١): كان يعجبهما إذا أخذ المؤذن في الإقامة أن يمضي ولا يترسل.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اور حسن کو یہ بات پسند تھی کہ مؤذن اقامت کو جلدی جلدی کہے، آہستہ نہ کہے۔
٢٢٥٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (أبي بكر بن) (١) حفص عن ابن عمر: أنه كان (يحذف) (٢) الإقامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جلدی جلدی اقامت کہتے تھے۔
٢٢٥٨ - حدثنا مالك قال: نا (جعفر) (١) الأحمر عن (مغيرة) (٢) عن إبراهيم قال: يرتل (٣) الأذان ولتبع الإقامة بعضها (ببعض) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اذان ٹھہر ٹھہر کر اقامت تیز تیز کہا کرتے تھے۔