٢٠٢٠ - حدثنا أبو بكر عن (ابن) (١) مبارك عن هشام عن الحسن في الجنب يعرق في الثوب، حتى ينعصر قال: يصلي فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر جنبی کو اتنا پسینہ آئے کہ کپڑے سے ٹپکنے لگے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا انہی کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے۔
٢٠٢١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا هشام عن عكرمة عن ابن عباس: أنه لا يرى بأسًا بعرق الجنب والحائض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٢٢ - حدثنا (هشيم) (١) قال: أخبرنا يونس عن الحسن: أنه كان لا يرى بأسًا بعرق الجنب والحائض.
مولانا محمد اویس سرور
حسن جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٢٣ - حدثنا الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن جبير: في الجنب يعرق في الثوب، فيأخذ عرقه، فيتمسح به: لم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا گیا کہ اگر جنبی کا پسینہ کپڑے کو لگ جائے تو کیا کرے ؟ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢٠٢٤ - حدثنا ابن مبارك عن هشام عن عكرمة عن ابن عباس: أنه كان لا يرى بأسًا بعرق الجنب والحائض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٢٥ - حدثنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن عائشة: أنها كانت لا ترى بعرق الجنب بأسًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جنبی کے پسینہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔
٢٠٢٦ - حدثنا يحيى بن سليم عن (ابن جريج) (١) عن عطاء قال: كان لا يرى بعرق الجنب بأسًا في الثوب، وليس عليه فيه نجاسة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ جنبی کا پسینہ کپڑے پہ لگ جائے تو اس میں کوئی نہ حرج ہے اور نہ کوئی ناپاکی۔
٢٠٢٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن (العلاء) (١) قال: سألت حمادًا عن الحائض (تعرق) (٢) في ثيابها (أتغسل ثيابها؟) (٣) قال: إنما (تفعل) (٤) ذلك المجوس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر حائضہ کے کپڑوں کو اس کا پسینہ لگ جائے تو کیا وہ کپڑے دھوئے گی ؟ فرمایا کہ ایسا تو مجوس کیا کرتے تھے۔
٢٠٢٨ - حدثنا ابن مهدي عن مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر: أنه كان يعرق في الثوب، وهو جنب، ثم يصلي فيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حالت جنابت میں پسینہ آتا لیکن آپ انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
٢٠٢٩ - حدثنا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول: أنه كان لا يرى بأسًا بعرق الجنب في ثيابه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول جنبی کے پسینے سے کپڑوں میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٣٠ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال: لا بأس بعرق الجنب في الثوب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جنبی کا پسینہ کپڑوں کو لگ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢٠٣١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن إبراهيم في الجنب يعرق في الثوب قال: لا يضره، ولا ينضحه بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر جنبی کا پسینہ کپڑوں کو لگ جائے تو اس میں کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی وہ اس پر پانی چھڑکے۔