١٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم عن الغسل والوضوء بالثلج؟ فقال: يكسره، ويغتسل، ويتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے برف کے پانی سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے توڑ کر اس سے غسل اور وضو کرسکتا ہے۔
١٨٦٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر، و (١) الحكم قالا: لا بأس بالوضوء بالثلج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ برف سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
١٨٦٧ - حدثنا حفص عن شيخ قال: كان سالم يتيمم إذا كان الماء جامدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت سالم پانی کے جمے ہوئے ہونے کی صورت میں تیمم کرلیا کرتے تھے۔
١٨٦٨ - حدثنا وكيع قال: وكان سفيان (يسخنه) (١) ويغتسل منه، ويتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان برف کے پانی سے وضو کرنے اور غسل کرنے کو جائز سمجھتے تھے۔
١٨٦٩ - حدثنا حفص عن أشعث بن عبد الملك عن الحسن: سئل عن رجل اغتسل بالثلج، فأصابه البرد، فمات؟، فقال: يا لها من شهادة!.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی برف سے غسل کرتے ہوئے سردی سے مرجائے تو فرمایا کہ اس کی شہادت کے کیا کہنے !۔