١٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: كانت لعبيد بن عمير خصلتان، فكان إذا توضأ، مسح عليهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر کے سر پر بالوں کے دو گچھے تھے۔ وہ جب وضو کرتے تو ان پر مسح کیا کرتے تھے۔
١٨٥٦ - حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: أي جوانب رأسك مسحت، أجزأك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ تم اپنے سر کے کسی بھی حصہ پر مسح کرلو جائز ہے۔
١٨٥٧ - [حدثنا وكيع عن إسماعيل الأزرق عن الشعبي (قال) (١): أي جوانب رأسك مسحت؟ أجزأك] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تم اپنے سر کے کسی بھی حصہ پر مسح کرلو جائز ہے۔
١٨٥٨ - حدثنا وكيع عن ابن جريج عن عطاء: أن النبي ﷺ مسح مقدم رأسه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کے اگلے حصہ پر مسح فرمایا۔
١٨٥٩ - حدثنا ابن علية عن خالد الحذاء قال: بلغني أن ابن عمر كان يقول: (يكفيه) (١) من الماء هكذا، ووصف أنه (يغمسهما) (٢) في الماء، ثم يمسح رأسه هكذا ووضع كفيه وسط رأسه، ثم أمرهما إلى مقدم رأسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے سر پر اتنا پانی ڈالنا کافی ہے۔ پھر انہوں نے دونوں ہاتھ پانی میں ڈالے۔ پھر سر کا مسح اس طرح کیا کہ اپنی ہتھیلیوں کو سر کے درمیان میں رکھا پھر انہیں سر کے اگلے حصہ پر پھیرلیا۔