کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر بارش کا کیچڑ کپڑوں پر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1852
١٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن: في طين (١) المطر يصيب الثوب قال: إن شاء غسله، وإن شاء تركه، حتى يجف، ثم يفركه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے پوچھا گیا کہ اگر بارش کا کیچڑ کپڑوں پر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اگر چاہے تو اسے دھولے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، جب خشک ہوجائے تو کھرچ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1852
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1852، ترقيم محمد عوامة 1846)
حدیث نمبر: 1853
١٨٥٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن منصور قال: سألت مجاهدا عن طين المطر يصيب الثوب؟ فقال: إذا يبس؛ فحته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سوال کیا کہ اگر بارش کا کیچڑ کپڑوں پر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ جب خشک ہوجائے تو اسے کھرچ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1853
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1853، ترقيم محمد عوامة 1847)
حدیث نمبر: 1854
١٨٥٤ - حدثنا ابن نمير عن حجاج بن دينار قال: سألت أبا جعفر عن طين المطر يصيب ثوبي؟ فقال: الأرض الطيبة (تطيب) (١) الأرض الخبيثة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے سوال کیا کہ اگر بارش کا کیچڑ میرے کپڑوں پر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا پاک زمین ناپاک زمین کو پاک کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1854
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1854، ترقيم محمد عوامة 1848)