کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
١٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (بن) (١) غياث عن داود عن الشعبي عن علقمة (عن عبد اللَّه) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (لا تستنجوا) (٣) (بالعظام) (٤) ولا بالروث، فإنهما زاد إخوانكم من الجن" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی غذا ہے۔
١٦٦٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن ليث عن عبد الرحمن) (١) بن الأسود عن أبيه عن (عبد اللَّه) (٢) قال: خرجت مع رسول اللَّه ﷺ لحاجة فقال: "ائتني ⦗٣٣٣⦘ بشيء أستنجي به، ولا تقربني حائلا ولا رجيعا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رفعِ حاجت کی غرض سے نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : میرے استنجا کرنے کے لیے کوئی چیز لاؤ، میرے پاس ہڈی اور لید نہ لانا۔
١٦٦٧ - حدثنا وكيع وأبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن سلمان قال: أمرنا أن نستنجي -يعني النبي ﷺ بثلاثة أحجار، ليس فيها رجيع، ولا عظم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تین پتھروں سے استنجا کریں جس میں لید یا ہڈی نہ ہو۔
١٦٦٨ - حدثنا ابن نمير وعبدة عن هشام بن عروة عن عمرو بن خزيمة عن عمارة بن خزيمة عن خزيمة بن ثابت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الاستطابة بثلاثة أحجار، ليس فيها رجيع" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ استنجا تین پتھروں سے ہونا چاہیے جس میں لید نہ ہو۔
١٦٦٩ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يونس عن الحسن: أنه كان يكره أن يستنجي [(الرجل) (١) بروث أو برجيع دابة، أو بعظم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ لید، مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
١٦٧٠ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد: أنه كان يكره أن يستنجي] (١) بالحجر الذي قد استنجي به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس پتھر کو استنجا کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
١٦٧١ - حدثنا حفص عن مسعر عن عبد الملك -يعني ابن ميسرة- قال: لا بأس إذا قلبته، أو حككته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ جس پتھر کو استنجا کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس کو رگڑ کر یا دوسری جانب سے استنجا کرنا جائز ہے۔
١٦٧٢ - حدثنا وكيع (عن سنان) (١) البرجمي عن رجل عن الحسن قال: لا بأس إذا كان الحجر عظيمًا له حروف أن (تحرفه) (٢)، (وتقلبه) (٣)، فتستنجي به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی پتھر بڑا ہو اور اس کے مختلف کنارے ہوں تو اس کے دوسرے کنارے سے استنجاء کرنا جائز ہے۔
١٦٧٣ - [حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة عن مجاهد: أنه كره أن يستنجي بما قد استنجي به] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس پتھر کو استنجا کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
١٦٧٤ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي قال: نُهي أن يستنجي الرجل بالبعرة، والعظم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنا منع ہے۔