کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مستحاضہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1354
١٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: جاءت فاطمة ابنة أبي حبيش إلي النبي ﷺ فقالت يا رسول اللَّه إني امرأة استحاض، فلا أطهر، أفأدع الصلاة؟ قال: "لا، إنما ذلك عرق، وليس بالحيضة، فإذا أقبلت الحيضة فدعي الصلاة، فإذا أدبرت؛ (فاغسلي) (١) عنك الدم، وصلي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک رگ کا خون ہے یہ حیض نہیں جب تمہیں حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض چلا جائے تو خون دھو کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1354
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٢٨) ومسلم (٣٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1354، ترقيم محمد عوامة 1353)
حدیث نمبر: 1355
١٣٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن عروة عن عائشة قالت: جاءت فاطمة ابنة أبي حبيش إلي النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه إني امرأة استحاض، فلا أطهر، أفادع الصلاة؟ قال: " (لا) (١)، إنما ذلك عرق، وليست بالحيضة. اجتنبي الصلاة أيام حيضك، ثم اغتسلي، وتوضئي لكل صلاة، ⦗٢٦٩⦘ ثم صلي، وإن قطر الدم على الحصير" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک رگ کا خون ہے یہ حیض نہیں حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دو ، پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو پھر نماز پڑھتی رہو خواہ خون چٹائی پر ٹپکتا رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد ٦/ ٤٢، وأبو داود (٢٩٨) وابن ماجه (٦٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1355، ترقيم محمد عوامة 1354)
حدیث نمبر: 1356
١٣٥٦ - حدثنا ابن نمير وأبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن سليمان بن يسار عن أم سلمة قالت: سألت امرأة النبي ﷺ فقالت: إني أُستحاض، فلا أطهر، أفأدع الصلاة؟ قال: "لا، ولكن دعي قدر الأيام والليالي التي كنت تحيضين، وقدرهن، ثم اغتسلي (واستثفري) (١) وصلي"، إلا أن ابن نمير قال: أم سلمة استفتت النبي ﷺ فقالت: امرأة تهراق الدم؟ فقال: "تنتظر قدر الأيام والليالي التي كانت (تحيضهن) (٢)، أو قدرهن من الشهر"، ثم ذكر مثل حديث أبي أسامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ حیض کے دن اور راتوں میں نماز چھوڑے رکھو پھر غسل کرو، خون روکنے کے لیے کپڑا باندھو اور نماز پڑھو۔ اس حدیث میں ابن نمیر کی روایت مختلف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد ٦/ ٢٩٣ (٢٦٥١٠)، وابن ماجه (٦٢٣) والنسائي ١/ ١٨٢، وأبو داود (٢٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1356، ترقيم محمد عوامة 1355)
حدیث نمبر: 1357
١٣٥٧ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن عكرمة: أن أم حبيبة ابنة جحش استحيضت فسألت النبي ﷺ أو سئل (لها) (١) فأمرها أن تنظر أيام أقرائها، ثم تغتسل، فإن رأت شيئا بعد ذلك، توضأت، واحتشت، وصلت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش مستحاضہ ہوگئیں تو ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنے حیض کے دنوں کا خیال رکھے جب وہ گزر جائیں اور کچھ نظر آئے تو وضو کرے، کوئی کپڑا باندھے اور نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1357
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه أبو داود (٣٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1357، ترقيم محمد عوامة 1356)
حدیث نمبر: 1358
١٣٥٨ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن سليمان بن يسار: أن فاطمة ابنة أبي حبيش استحيضت، فسألت النبي ﷺ أو سئل لها، فأمرها أن تدع الصلاة أيام أقرائها، ثم تغتسل فيما سوى ذلك، ثم تستثفر بثوب، وتصلي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش مستحاضہ ہوگئیں۔ ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حیض کے دنوں میں نماز کو چھوڑے رکھیں پھر غسل کریں کوئی کپڑا باندھیں اور نماز پڑھ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1358
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وانظر: رقم [١٣٥٧].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1358، ترقيم محمد عوامة 1357)
حدیث نمبر: 1359
١٣٥٩ - حدثنا حفص بن غياث عن العلاء بن المسيب عن (الحكم) (١) عن أبي جعفر أن النبي ﷺ أمر المستحاضة إذا مضت أيام أقرائها، أن تغتسل، وتوضأ لكل صلاة، وتصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مستحاضہ کو حکم دیا ہے کہ جب اس کے حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1359
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1359، ترقيم محمد عوامة 1358)
حدیث نمبر: 1360
١٣٦٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي: أن امرأة مسروق سألت عائشة عن المستحاضة قالت: تتوضأ لكل صلاة، وتحتشي، وتصلي (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے اور کپڑا باندھ کر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1360
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1360، ترقيم محمد عوامة 1359)
حدیث نمبر: 1361
١٣٦١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن المجالد، وداود عن الشعبي قال: أرسلت امرأتي إلي امرأة مسروق، فسألتها عن المستحاضة؟ فذكرت عن عائشة أنها قالت: تجلس أيام أقرائها، ثم تغتسل، وتتوضأ لكل صلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حضرت مسروق کی بیوی کے پاس بھیجا کہ ان سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھے۔ حضرت مسروق کی بیوی نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ مستحاضہ حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھے پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1361
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1361، ترقيم محمد عوامة 1360)
حدیث نمبر: 1362
١٣٦٢ - حدثنا ابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن القعقاع بن حكيم قال: سألت سعيد بن المسيب عن المستحاضة فقال: ما أحد أعلم بهذا مني إذا أقبلت الحيضة، فلتدع الصلاة، وإذا أدبرت، فلتغتسل، ولتغسل عنها الدم، ولتوضأ لكل صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ جب اسے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض چلا جائے تو غسل کرے اور خون دھوئے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1362
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1362، ترقيم محمد عوامة 1361)
حدیث نمبر: 1363
١٣٦٣ - حدثنا حفص وأبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: المستحاضة تغتسل، وتتوضأ لكل صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1363
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1363، ترقيم محمد عوامة 1362)
حدیث نمبر: 1364
١٣٦٤ - حدثنا (حاتم) (١) عن عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن المسيب: في المرأة التي تستحاض (فتطاولها حيضتها) (٢)، تغتسل فتستنقي، ثم تجعل كرسفا، كما يجعل الراعف، وتستثفر بثوب، ثم تصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب مستحاضہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حیض کے دن گزارنے کے بعد وہ غسل کرے، جسم کو صاف کرے، پھر اس طرح روئی رکھے جیسے نکسیر والا روئی رکھتا ہے پھر اچھی طرح کپڑا باندھے، پھر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1364
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1364، ترقيم محمد عوامة 1363)
حدیث نمبر: 1365
١٣٦٥ - حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن عطاء عن ابن عباس قال تؤخر الظهر، وتعجل العصر، وتغتسل مرة (واحدة) (١)، وتؤخر المغرب، وتعجل العشاء، وتغتسل مرة واحدة، ثم تغتسل للفجر، ثم تقرن بينهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ظہر کو مؤخر کرے گی اور عصر کی نماز جلدی پڑھے گی۔ ایک مرتبہ غسل کرے گی۔ پھر مغرب کو مؤخر کرے گی اور عشاء کی نماز جلدی پڑھے گی۔ اور ایک مرتبہ غسل کرے گی۔ پھر فجر کے لیے غسل کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1365
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الدارمي (٨٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1365، ترقيم محمد عوامة 1364)
حدیث نمبر: 1366
١٣٦٦ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: تجلس أيام حيضتها التي كانت تحيض فيها فإذا مضت تلك الأيام، اغتسلت، ثم تؤخر من الظهر، وتعجل من العصر، ثم تصليهما بغسل واحد، كل واحدة منهما في وقت، ثم لتغتسل للمغرب والعشاء، وتؤخر من المغرب، وتعجل من العشاء، ثم تصلي كل واحدة منهما في وقت، ثم تغتسل للفجر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مسحاضہ حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھے گی۔ جب حیض گزر جائے تو غسل کرے ظہر کی نماز کو مؤخر کرے اور عصر کی نماز کو جلدی پڑھے پھر ان دونوں کو ایک غسل سے پڑھے اور دونوں کو ایک وقت میں پڑھے۔ پھر مغرب اور عشاء کے لیے غسل کرے اور مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء کو جلدی پڑھے پھر دونوں نمازوں کو ایک وقت میں پڑھے پھر فجر کے لیے غسل کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1366
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1366، ترقيم محمد عوامة 1365)
حدیث نمبر: 1367
١٣٦٧ - حدثنا وكيع عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: تغتسل من (الظهر) (١) إلى الظهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ظہر سے ظہر تک کے لیے غسل کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1367
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1367، ترقيم محمد عوامة 1366)
حدیث نمبر: 1368
١٣٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سمي عن سعيد بن (المسيب) (١): مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1368
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1368، ترقيم محمد عوامة 1367)
حدیث نمبر: 1369
١٣٦٩ - حدثنا (محمد) (١) (بن يزيد) (٢) (عن أبي) (٣) العلاء عن قتادة أن عليا وابن عباس قالا في المستحاضة: تغتسل لكل صلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1369
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1369، ترقيم محمد عوامة 1368)
حدیث نمبر: 1370
١٣٧٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن جعفر عن أبيه قال: تغتسل للظهر والعصر غسلا، وللمغرب والعشاء غسلا، وللفجر غسلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے گی، مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے گی اور فجر کے لیے ایک غسل کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1370
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1370، ترقيم محمد عوامة 1369)
حدیث نمبر: 1371
١٣٧١ - حدثنا وكيع قال حدثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير قال: كنت عند ابن عباس فجاءت امرأة بكتاب فقرأته فإذا فيه: إني امرأة مستحاضة وإن عليا قال: تغتسل لكل صلاة، فقال ابن عباس: ما أجد لها إلا ما قال علي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت ایک خط لے کر آئی میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میری بھی اس بارے میں یہی رائے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1371
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الدارمي (١٩٣٦) وعبد الرزاق (١١٧٨) والطحاوي ١/ ١٠١، وابن حزم ٢/ ٢١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1371، ترقيم محمد عوامة 1370)
حدیث نمبر: 1372
١٣٧٢ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن الحكم عن علي في المستحاضة تؤخر من الظهر، وتعجل من العصر، وتؤخر المغرب، وتعجل العشاء، قال: وأظنه قال: وتغتسل للفجر (قال) (١) فذكرت ذلك لابن الزبير وابن عباس، فقالا: ما نجد (لها) (٢) إلا ما قال علي (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ مستحاضہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ظہر کو تاخیر سے اور عصر کو جلدی، اسی طرح مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی پڑھے گی۔ اور فجر کے لیے غسل کرے گی۔ حضرت حکم کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن زبیر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری بھی یہی رائے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1372
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث، وانظر مصنف عبد الرزاق (١١٧٣) و (١١٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1372، ترقيم محمد عوامة 1371)
حدیث نمبر: 1373
١٣٧٣ - حدثنا صفوان بن عيسى عن محمد بن عثمان المخزومي قال: سألت سالما، والقاسم عن المستحاضة، فقال (أحدهما) (١): تنتظر أيام أقرائها، فإذا مضت أيام أقرائها؛ اغتسلت، وصلت، وقال الآخر: تغتسل من الظهر إلي الظهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم اور حضرت قاسم سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھے گی۔ جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ دوسرے نے کہا کہ ظہر سے ظہر تک کے لیے غسل کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1373
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1373، ترقيم محمد عوامة 1372)
حدیث نمبر: 1374
١٣٧٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا شريك عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن إبراهيم بن محمد بن طلحة عن عمه عمران بن طلحة عن (أمه) (١) (حمنة) (٢) ابنة جحش: أنها استحيضت على عهد رسول اللَّه ﷺ فأتت رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه إني (استحضت) (٣) حيضة منكرة شديدة، فقال لها: ⦗٢٧٣⦘ "احتشي كرسفا"، قالت: إنه أشد من ذلك إني أثج ثجا، قال: "تلجمي، وتحيضي في كل شهر في علم اللَّه ستة أيام، أو سبعة ثم اغتسلى غسلا، وصلي، وصومي ثلاثًا وعشرين، أو أربعا وعشرين، وأخري الظهر، وقدمي العصر، (واغتسلي لهما غسلا) (٤) وأخري المغرب، وقدمي العشاء، واغتسلى لهما غسلا، وهذا أحب الأمرين إليّ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمنہ بنت جحش فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مستحاضہ ہوگئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے انتہائی شدید استحاضہ لاحق ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ روئی کو اچھی طرح کپڑے کے ساتھ باندھ لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور بہہ رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کپڑے کی لگام ڈال لو اور ہر مہینے اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض کے گزارو پھر غسل کرو اور تیئس یا چوبیس دن نماز پڑھو اور روزے رکھو۔ ظہر کو مؤخر کرو اور عصر کو جلدی پڑھو اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرو۔ پھر مغرب کو مؤخر کرو اور عشاء کو مقدم کرو اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرو۔ یہ دونوں باتوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1374
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن عقيل، أخرجه أحمد (٢٧١٤٤) وابن ماجه (٦٢٢) والحاكم ١/ ١٧٢، وعبد الرزاق (١١٧٤) والطبراني ٢٤ (٥٥١) والدارقطني ١/ ٢١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1374، ترقيم محمد عوامة 1373)
حدیث نمبر: 1375
١٣٧٥ - [حدثنا شريك عن (أبي اليقظان) (١) عن عدي بن ثابت عن أبيه عن (جده) (٢) عن النبي ﷺ قال: "المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها، ثم تغتسل، وتوضأ لكل صلاة، وتصوم وتصلى" (٣)] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مستحاضہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رکھے گی، پھر غسل کرے، ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1375
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1375، ترقيم محمد عوامة 1374)
حدیث نمبر: 1376
١٣٧٦ - حدثنا شريك عن (أبي اليقظان) (١) عن عدي بن ثابت عن أبيه عن علي: مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سند سے بھی یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1376
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي اليقظان، وقيل ثابت مجهول، وانظر: [١٣٧٥].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1376، ترقيم محمد عوامة 1375)
حدیث نمبر: 1377
١٣٧٧ - حدثنا ابن نمير قال: حدثني إسماعيل عن عبد الملك بن عبد اللَّه أنه سمع أبا جعفر يقول في المستحاضة: إنما هي ركضة من الشيطان فإن غلبها الدم استثفرت، وتغتسل بعد قرئها، وتوضأ، كما قالت عائشة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر مستحاضہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ شیطان کا ایک رخنہ ہے۔ جب خون غالب آجائے تو کپڑا رکھ لے اور حیض کے بعد غسل کرے اور وضو کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1377
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1377، ترقيم محمد عوامة 1376)
حدیث نمبر: 1378
١٣٧٨ - حدثنا إسماعيل بن علية عن (خالد) (١) عن أنس بن سيرين قال: استحيضت امرأة من آل أنس، فأمروني، فسألت ابن عباس فقال أما ما رأت الدم البحراني، فلا تصلي، وإذا رأت الطهر ولو ساعة من النهار: فلتغتسل، وتصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ آل انس کی ایک عورت مستحاضہ ہوگئی لوگوں نے مجھے اس کی تحقیق کا حکم دیا۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو فرمایا اگر وہ مسلسل خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور اگر دن کے ایک حصہ میں بھی طہر دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1378
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الدارمي (٨٢٧) وابن حزم في المحلى ٢/ ١٦٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1378، ترقيم محمد عوامة 1377)
حدیث نمبر: 1379
١٣٧٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه عن زينب بنت أم سلمة قالت: رأيت ابنة جحش -وكانت مستحاضة- تخرج من المركن، والدم (غالبه) (١)، ثم تصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زینب بنت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے بنت جحش کو دیکھا۔ وہ مستحاضہ تھیں۔ اور خون بہت زیادہ تھا پھر بھی نماز پڑھتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1379
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1379، ترقيم محمد عوامة 1378)
حدیث نمبر: 1380
١٣٨٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن الحسن قال: تغتسل من صلاة الظهر إلى مثلها من الغد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ایک دن کی ظہر سے اگلے دن کی ظہر تک کے لیے غسل کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1380
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1380، ترقيم محمد عوامة 1379)