١٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس: أنه صنع هذه المطهرة، وقد علم أنه يتوضأ منها: الأسود والأبيض قال: وكان ينسكب من وضوء الناس في جوفها، فسألت عطاء فقال: لا بأس به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسجد میں وضو کرنے کا ایک حوض بنایا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے ہر کوئی وضو کرے گا۔ اس برتن میں لوگوں کے وضو کا پانی بھی گرا کرتا تھا۔ حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٣٨٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه قال: رأيت البراء بن عازب بال، ثم جاء إلى مطهرة المسجد، فتوضأ منها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا اور پھر مسجد میں بنائے ہوئے وضو کے تالاب سے وضو فرمایا۔
١٣٨٣ - حدثنا ابن إدريس عن عيسى بن المغيرة قال: سألت سعيد بن جبير عن المطهرة التي يدخل الناس أيديهم فيها؟ فقال: الماء لا ينجسه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے مسجد میں بنائے گئے وضو کے تالابوں کے بارے میں سوال کیا جس میں لوگ اپنے ہاتھ ڈالتے تھے تو آپ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
١٣٨٤ - حدثنا ابن إدريس عن عثمان بن الأسور قال: كان مجاهد يتوضأ من وضوء الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد لوگوں کے وضو کرنے کے تالاب سے وضو کیا کرتے تھے۔
١٣٨٥ - حدثنا وكيع عن عصمة بن (زامل) (١) عن أبيه عن أبي هريرة: أنه توضأ من المطهرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ نے لوگوں کے وضو کرنے کے تالاب سے وضو کیا۔
١٣٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مزاحم قال: قلت للشعبي أكوز عجوز مخمر أحب إليك أن أتوضأ منه، أو المطهرة التي يدخل فيها الجزار يده؟ قال: من المطهرة التي يدخل فيها (الجزار) (١) يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مزاحم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے کہا بڑھیا کا وہ لوٹا جس پر کپڑا چڑھا ہو آپ کے خیال میں وضو کے لیے بہتر ہے یا وہ وضو کا حوض جس میں قصائی بھی اپنا ہاتھ داخل کرتا ہے ؟ فرمایا وہ حوض جس میں قصائی بھی اپنا ہاتھ داخل کرتا ہے۔
١٣٨٧ - حدثنا وكيع عن (سعيد) (١) بن صالح عن سعيد بن عبد اللَّه بن ضرار عن أبيه قال: إني لأتوضأ من الميضأة التي في السوق، إذ جاء عبد اللَّه فقال: يا هذا أين هواك اليوم؟ قال: قلت: بالشام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ضرار فرماتے ہیں کہ میں بازار میں بنے ہوئے وضو کے حوض سے وضو کر رہا تھا کہ حضرت عبد اللہ گزرے اور فرمایا ” اے فلاں ! آج کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا شام جانے کا ارادہ ہے۔
١٣٨٨ - حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: (رأيت) (١) رجلا يتوضأ في ذلك الحوض (منكشفا) (٢)؟ فقال: لا بأس به، قد جعله ابن عباس وقد علم أنه يتوضأ منه الأبيض، والأسود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا کہ میں نے ایک آدمی کو اس کھلے حوض سے وضو کرتے دیکھا ہے۔ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا ایک حوض بنایا تھا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے ہر کوئی وضو کرے گا۔