حدیث نمبر: 1239
١٢٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه ونافع قال: كانا لا يريان بأسًا ببول البعير قال: وأصابني، فلم يريا به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع اور حضرت جعفر کے والد اونٹ کے پیشاب کے کپڑے پر لگ جانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1240
١٢٤٠ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء عن عطاء: أنه سئل عن بول البعير يصيب ثوب الرجل؟ فقال: وما عليك لو أصابك، وقال حماد: إني (لأغسل) (١) البول كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے کسی نے پوچھا کہ اگر اونٹ کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا اگر وہ تمہیں بھی لگ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے تھے کہ میں تو سارا پیشاب دھوؤں گا۔
حدیث نمبر: 1241
١٢٤١ - حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن عبيد اللَّه قال: سأل الحكم بن صفوان ⦗٢٤٧⦘ إبراهيم عن بول البعير يصيب ثوب الرجل؟ قال: (لا بأس) (١) به، أليس يشرب ويتداوى به؟!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم نے ابراہیم سے اونٹ کے پیشاب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ کیا اس کو پیا نہیں جاتا اور کیا اسے علاج کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا !
حدیث نمبر: 1242
١٢٤٢ - حدثنا حفص عن حجاج عن طلحة عن إبراهيم قال: ما اجتر؛ فلا بأس ببوله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو جانور جگالی کرتا ہے اس کا پیشاب پاک ہے۔
حدیث نمبر: 1243
١٢٤٣ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن ابن سيرين قال: رخص في (أبوال) (١) ذوات الكروش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سم والے جانوروں کے پیشاب میں رخصت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 1244
١٢٤٤ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن بول الشاة؟ فقال حماد: (يغسل) وقال الحكم: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے بکری کے پیشاب کے بارے میں پوچھا تو حضرت حماد نے فرمایا کہ اسے دھویا جائے گا اور حضرت حکم نے فرمایا کہ اسے دھونے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 1245
١٢٤٥ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان يرى أن تغسل الأبوال كلها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ہر چیز کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1246
١٢٤٦ - حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن الحسن: أنه كان يغسل البول كله، وكان يرخص في أبوال ذوات الكروش.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ سارے پیشاب کو دھویا جائے گا البتہ سم والے جانوروں کے پیشاب میں رخصت ہے۔
حدیث نمبر: 1247
١٢٤٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا سعيد عن يعلى بن حكيم عن نافع وعبد الرحمن بن القاسم أنهما قالا: اغسل ما أصابك من أبوال البهائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع اور حضرت عبدالرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ اگر جانوروں کا پیشاب تمہارے ساتھ لگ جائے تو اسے دھو لو۔
حدیث نمبر: 1248
١٢٤٨ - حدثنا وكيع عن أبيه عن ميسرة مولى للحي قال: سألت الشعبي عن بول التيس؟ فقال: لا تغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے بکری کے پیشاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا اسے دھونے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 1249
١٢٤٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد الكريم عن عطاء قال: ما أُكل لحمه؛ فلا بأس ببوله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے۔
حدیث نمبر: 1250
١٢٥٠ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن عمارة بن أبي حفصة قال: سمعت أبا مجلز يقول: قلت لابن عمر: بعثت جملي، فبال فأصابني بوله؟ قال: اغسله. قلت: إنما كان انتضح -كذا وكذا- يعني: يقلله، قال: اغسله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میرے اونٹ نے پیشاب کیا اور اس کا پیشاب میرے کپڑوں پر لگ گیا، میں کیا کروں ؟ فرمایا اسے دھو لو، میں نے عرض کیا وہ بہت تھوڑا ہے ؟ فرمایا اسے دھو لو۔
حدیث نمبر: 1251
١٢٥١ - حدثنا (خالد) (١) بن حيان عن عيسى بن كثير عن ميمون بن مهران قال: بول البهيمة والإنسان سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ انسان اور جانور کے پیشاب کا حکم ایک ہے۔