١٢٣٣ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي: في الرجل يعطس على الخلاء قال: يحمد اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمدللہ کہے۔
١٢٣٤ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن منصور عن إبراهيم قال: يحمد اللَّه؛ فإنه يصعد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمدللہ کہے کیوں کہ یہ کلمات اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں۔
١٢٣٥ - حدثنا ابن إديس عن هشام عن الحسن قال: يحمد اللَّه في نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں چھینکنے والا دل میں الحمدللہ کہے۔
١٢٣٦ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد: سئل عن الرجل يعطس في الخلاء؟ قال: [لا أعلم بأسًا بذكر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے بیت الخلاء میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ الحمدللہ کہے یا نہ کہے ؟ فرمایا میں اللہ کے ذکر میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
١٢٣٧ - حدثنا ابن علية عن شعبة عن أبي إسحاق في الرجل يعطس في الخلاء] (١) قال: قال أبو ميسرة: ما أحب أن أذكر اللَّه إلا في مكان طيب قال: قال منصور: قال إبراهيم: يحمد اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ نے بیت الخلاء میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں فرمایا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اللہ کا ذکر صرف پاکیزہ جگہ کرنا چاہیے۔ ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ الحمدللہ کہے گا۔
١٢٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أنا قزعة بن (سويد) (١) قال: سألت ابن أبي مليكة عن الرجل يعطس وهو على الخلاء؟ قال: يحمد اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ نے بیت الخلاء میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ الحمدللہ کہے گا۔