٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن (يزيد) (١) بن (أبي زياد) (٢) قال: حدثني عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي قال: سئل النبي ﷺ عن المذي فقال: "فيه الوضوء، وفي المني الغسل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ سے مذی کے قطرے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو واجب ہے اور منی میں غسل واجب ہے۔
٩٧٢ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن عن علي قال: كنت أجد مذيا، فأمرت المقداد أن يسأل النبي ﷺ عن ذلك؛ لأنَّ ابنته عندي فاستحييت أن أسأله فقال: "إن كل فحل يمذي، فإذا كان المني؛ ففيه الغسل، وإذا كان المذي؛ ففيه الوضوء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری مذی نکلا کرتی تھی۔ میں نے حضرت مقداد سے کہا کہ رسول اللہ سے اس بارے میں سوال کریں کیوں کہ حضور کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو مجھے یہ سوال کرتے ہوئے شرم محسوس ہوئی۔ حضرت مقداد نے سوال کیا تو حضور نے فرمایا کہ ہر بالغ مرد کی مذی خارج ہوتی ہے اگر منی ہو تو غسل لازم ہے اگر مذی ہو تو وضو لازم ہے۔
٩٧٣ - حدثنا هشيم عن الأعمش عن (منذر) (١) عن محمد بن الحنفية قال: سمعته يحدث عن أبيه عن النبي ﷺ: بمثل حديث الحسن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی حدیث منقول ہے۔
٩٧٤ - حدثنا محمد (بن بشر) (١) قال: حدثنا مسعر عن مصعب بن شيبة عن أبي حبيب بن يعلى (بن منية) (٢) عن ابن عباس أنه أتى أُبيّا ومعه عمر، فخرج عليهما، فقال: إني وجدت مذيا، فغسلت ذكري، وتوضأت، فقال عمر: أو ⦗١٩٦⦘ يجزئ ذلك؟ قال: نعم، قال: سمعته من النبي ﷺ؟ قال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابی کے پاس گیا تو حضرت عمر بھی ان کے پاس تھے۔ میں نے کہا کہ میں نے مذی محسوس کی تو اپنے آلہ تناسل کو دھو لیا۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے لیے کافی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے یہ رسول اللہ سے سنا ہے ؟ فرمایا ہاں۔
٩٧٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة بن الحر قال: سئل (عمر) (١) عن المذي؟ فقال: ذاك (الفطر) (٢) ومنه الوضوء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ بن حر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے مذی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ تو بالکل ابتدائی چیز ہے اس سے صرف وضو واجب ہے۔
٩٧٦ - حدثنا ابن علية عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي أن (سلمان) (١) بن ربيعة تزوج امرأة من بني عقيل، فرآها، فلاعبها قال: فخرج منه ما يخرج من الرجل. قال سليمان: أو قال: المذي قال: فاغتسلت، ثم أتيت عمر فسألته، فقال: ليس عليك (٢) في ذلك غسل؛ ذلك (النشر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان ہندی کہتے ہیں کہ سلمان بن ربیعہ نے بنو عقیل کی ایک عورت سے شادی کی، جب اس سے ملاعبت کی تو ان کی مذی نکل آئی۔ اس پر انہوں نے غسل کیا اور حضرت عمر سے اس بارے میں پوچھا۔ حضرت عمر نے فرمایا اس سے غسل واجب نہیں یہ تو محض مذی ہے۔
٩٧٧ - حدثنا ابن علية عن محمد بن إسحاق قال: حدثنا سعيد بن عبيد بن السباق عن أبيه عن سهل بن حنيف قال: كنت ألقى من المذي شدة، فأكثر منه الاغتسال، فسألت رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنما يجزئك من ذلك الوضوء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن حنیف فرماتے ہیں کہ میری بہت زیادہ مذی نکلا کرتی تھی جس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کرتا تھا۔ میں نے اس بارے میں رسول اللہ سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے صرف وضو کافی ہے۔
٩٧٨ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن أنس (١) ابن سيرين قال: قال ابن ⦗١٩٧⦘ عباس: المني يغتسل منه، والمذي يغسل منه فرجه ويتوضأ، والذي من الشهوة لا أدري ما هو (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ منی کی وجہ سے غسل کیا جائے گی اور مذی نکلنے کی صورت میں شرم گاہ کو دھو کر وضو کرے۔ اور جو چیز شہوت کی وجہ سے نکلتی ہے، میں نہیں جانتا وہ کیا ہے۔
٩٧٩ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن عمه أبي المهلب قال: كان من أهله إنسان يغتسل من (الذي) (١) يخرج بعد البول، فقال له: أما إن الوضوء يجزيء عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مہلب کے خاندان کا کوئی شخص پیشاب کے بعد والی چیز کی وجہ سے غسل کیا کرتا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ تمہارے لیے وضو کافی ہے۔
٩٨٠ - [حدثنا ابن علية عن ابن عون عن القاسم قال: (الذي) (١) من الشهوة لا أدري ما هو!] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ جو چیز شہوت کی وجہ سے نکلے میں نہیں جانتا وہ کیا ہے۔
٩٨١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: ذووا عند ابن عمر البلة والمذي وبعض ما يجد الرجل، فقال: إنكم لتذوون شيئًا ما أجده، ولو وجدته؛ لاغتسلت منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے تری، مذی اور آدمی کی محسوس ہونے والی کچھ چیزوں کا ذکر کیا گیا تو فرمانے لگے اگر میں ان میں سے کسی چیز کو پاؤں تو غسل کروں گا۔
٩٨٢ - حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن عبد ربه بن موسى عن أمه عن عائشة قالت: المني منه الغسل، والمذي والودي يتوضأ منهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ منی نکلنے کی صورت میں غسل اور مذی یا ودی نکلنے کی صورت میں وضو لازم ہے۔
٩٨٣ - حدثنا المحاربي عن ليث عن مجاهد عن أبي هريرة: أنه سئل عن المذي. فقال: ذاك النشاط فيه الوضوء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مذی سے غسل کے وجوب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ محض نشاط ہے، اس سے صرف وضو لازم ہوتا ہے۔
٩٨٤ - حدثنا وكيع عن إستبرق [قال: سألت سالما عن المذي، فقال: يتوضأ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت استبرق کہتے ہیں کہ میں نے سالم سے مذی کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا اس میں وضو کیا جائے گا۔
٩٨٥ - حدثنا وكيع] (١) عن جعفر بن برقان وعمر بن الوليد الشني عن عكرمة قال: المني والودي والمذي، فأما المني؛ ففيه الغسل، وأما المذي والودي؛ فيغسل ذكره ويتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ منی میں غسل ہے اور مذی اور ودی میں آلہ تناسل کو دھو کر غسل کیا جائے گا۔
٩٨٦ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك قال: قلت للحسن البصري: أرأيت الرجل إذا أمذى كيف يصنع؟ فقال: كل فحل يمذي، فإذا كان ذلك؛ (فليغسل ذكره) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے پوچھا کہ اگر کسی آدمی کی مذی نکل آئے تو وہ کیا کرے ؟ فرمایا ہر بالغ مرد کی مذی نکلتی ہے، وہ اپنی شرم گاہ کو دھو لے۔
٩٨٧ - حدثنا (ابن فضيل) (١) عن الأعمش عن مجاهد (قال) (٢): (المني) (٣) والودي والمذي، ففي المني: الغسل، (والودي) (٤) والمذي: الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ منی میں غسل اور مذی اور ودی میں وضو لازم ہے۔
٩٨٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زياد بن فياض عن سعيد بن جبير: أنه قال في المذي: يغسل (الحشفة ثلاثًا) (١)، ويتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مذی میں آلہ تناسل کو تین مرتبہ دھو کر وضو کیا جائے گا۔
٩٨٩ - حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد عن ابن عباس قال: المني والودي والمذي. فأما المني؛ ففيه الغسل، وأما المذي والودي؛ ففيهما الوضوء، ويغسل ذكره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ منی میں غسل اور مذی اور ودی میں وضو لازم ہے اور شرم گاہ کو بھی دھوئے گا۔