حدیث نمبر: 186
١٨٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج (عن الزبير) (١) بن عدي عن إبراهيم قال: سألت الأسود أكان عمر يغسل قدميه؟ قال: نعم كان يغسلهما غسلا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اسود سے پوچھا کہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پاؤں دھویا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ خوب اچھی طرح پاؤں دھویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 187
١٨٧ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن حميد: أن أنسا كان يغسل قدميه ورجليه حتى يسيل (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وضو میں اپنے پاؤں اس اہتمام سے دھوتے کہ ان سے پانی بہنے لگتا تھا۔
حدیث نمبر: 188
١٨٨ - حدثنا شريك عن زياد بن علاقة عن ابن غرباء (١): أن عمر بن الخطاب رأى رجلا غسل ظاهر قدميه وترك باطنهما، فقال: لم تركتهما للنار؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن غرباء کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وضو کرتے ہوئے اس نے ظاہر حصوں کو دھو لیا اور باطنی حصوں کو چھوڑ دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اندرونی حصوں کو آگ کے لئے کیوں چھوڑتے ہو ؟
حدیث نمبر: 189
١٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: اغسل القدمين إلى الكعبين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا کرو۔
حدیث نمبر: 190
١٩٠ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن شعبة عن أبي بشر عن مجاهد عن ابن عمر قال: إن كنت لأسكب عليه الماء فيغسل رجليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ ارشاد فرماتے: ”میں ان پر خوب پانی ڈالتا ہوں“ یہ کہہ کر پاؤں دھویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 191
١٩١ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن بن صالح عن (أبي الجحاف) (١) عن الحكم قال: سمعته يقول: مضت السنة من رسول اللَّه ﷺ والمسلمين، يعني (بغسل القدمين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل اسلام کا طریقہ یہی ہے کہ وہ پاؤں کو دھویا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 192
١٩٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي حية قال: رأيت عليا توضأ فغسل قدميه إلى الكعبين، وقال: أردت أن أريكم طهور نبيكم ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے اور فرمایا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو سکھانا چاہتا تھا۔
حدیث نمبر: 193
١٩٣ - حدثنا ابن مبارك عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس أنه قرأ: ﴿وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [المائدة: ٦]، يعني: رجع الأمر إلى الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں آیت وضو میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ﴿وَاَرْجُلَكُمْ﴾ پڑھتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاؤں کے دھونے کو ضروری سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 194
١٩٤ - حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يقرأ: ﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [المائدة: ٦] يقول: رجع الأمر إلى الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد آیت وضو کو یوں پڑھتے تھے: ﴿فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَي الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ﴾ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاؤں کے دھونے کو ضروری سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 195
١٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن حماد عن إبراهيم قال: عاد الأمر إلى الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد کہتے ہیں کہ ابراہیم بھی آیت وضو میں ﴿وَاَرْجُلَكُمْ﴾ کہہ کر پاؤں دھونے کے قائل تھے۔
حدیث نمبر: 196
١٩٦ - حدثنا حفص (عن) (١) عمرو عن الحسن: ﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ﴾ [المائدة: ٦]، قال: ذاك الغسل (٢): الدلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو کہتے ہیں کہ حسن بصری آیت وضو کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس دھونے سے مراد اچھی طرح ملنا ہے۔
حدیث نمبر: 197
١٩٧ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز: أنه كان يغسل قدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران کہتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز وضو میں پاؤں دھویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 198
١٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن (محمد) (١) بن عقيل قال: حدثتني الربيع قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يأتينا، فتوضأ فغسل رجليه ثلاثًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور وضو میں پاؤں تین مرتبہ دھویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 199
١٩٩ - حدثنا ابن علية عن روح بن القاسم عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن الربيع ابنة معوذ بن عفراء قالت: أتاني ابن عباس، فسألني عن هذا الحديث -تعني ⦗٤٦⦘ حديثها الذي ذكرت أنها رأت النبي ﷺ توضأ، وأنه غسل رجليه -قالت: فقال ابن عباس: أبى الناس إلا الغسل، ولا أجد في كتاب اللَّه إلا المسح! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بنت معوذ ابن عفراء کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کے دوران پاؤں دھوتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ لوگ پاؤں دھونے کے قائل ہیں جبکہ کتاب اللہ میں مجھے مسح کا ذکر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 200
٢٠٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن محمود (١) قال: رأى رسول اللَّه ﷺ رجلا أعمى يتوضأ، فغسل وجهه ويديه، فجعل النبي ﷺ يقول: " (اغسل) (٢) باطن قدميك" فجعل يغسل باطن قدميه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن محمود کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پاؤں کے اندرونی حصوں کو بھی دھو لو۔ پس انہوں نے اس ارشاد کی تعمیل میں پاؤں کے اندرونی حصوں کو بھی دھویا۔
حدیث نمبر: 201
٢٠١ - حدثنا يحيى بن يمان عن عبد الملك عن عطاء قال: قلت له: أدركت أحدا منهم يمسح على القدمين؟ قال: محدث!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی ایسا شخص ملا ہے جو پاؤں پر مسح کرتا ہو ؟ حضرت عطاء نے فرمایا : ایسا شخص بے وضو ہی ہو رہے گا۔
حدیث نمبر: 202
٢٠٢ - حدثنا حماد بن مسعدة عن (يزيد) (١) مولى سلمة: كان يغسل قدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن مسعدہ کہتے ہیں کہ حضرت یزید مولی سلمہ پاؤں دھویا کرتے تھے۔