حدیث نمبر: 9686
٩٦٨٦ - حدثنا (عبدة) (١) بن سليمان عن (مجالد) (٢) عن وبرة قال: جاء رجل إلى ابن عمر (فقال) (٣): أباشر امرأتي وأنا صائم؟ فقال: لا. ثم جاءه آخر فقال: أباشر امرأتي وأنا صائم؟ قال: نعم. فقيل له: يا أبا عبد الرحمن قلت: لهذا نعم وقلت لهذا: لا؟ فقال: إن هذا شيخ وهذا شاب (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے معانقہ وغیرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ ایک دوسر ا آدمی آیا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں کرسکتے ہو۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایک آدمی کو اجازت دی اور ایک کو منع کیا اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک جوان اور دوسرا بوڑھا تھا۔

حواشی
(١) في [ص، هـ]: (عبيدة).
(٢) في [أ، ب، ز، ص، ك]: (مخالد).
(٣) في [هـ، ب]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9686
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9686، ترقيم محمد عوامة 9527)