حدیث نمبر: 9194
٩١٩٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: أتي عبد اللَّه بجفنة فقال للقوم: ادنوا فكلوا، فاعتزل رجل منهم فقال له عبد اللَّه: ما ⦗٤٨٣⦘ لك؟ قال: إني صائم، (فقال) (١) عبد اللَّه: (هذا) (٢) والذي لا إله غيره حين (حل) (٣) الطعام لآكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے پاس کھانے کا ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ آؤ اور کھاؤ۔ سب لوگ آگئے ایک آدمی پیچھے رہا۔ حضرت عبد اللہ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا میرا روزہ ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ وہ وقت ہے جس میں روزہ دار کے لئے کھاناحلال ہوجاتا ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (قال).
(٢) في [ب]: (هكذا).
(٣) في [أ، ب]: (أحل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9194
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9194، ترقيم محمد عوامة 9041)