حدیث نمبر: 9156
٩١٥٦ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: ثنا (٢) عمرو بن ميمون عن أبيه أن رجلًا قال لأبي ذر: الصيام لا (أسمعك) (٣) (ذكرت) (٤) (فيه شيئا) (٥) فقال أبو ذر: (قربة) (٦) (و) (٧) ليس هنالك (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوذر سے کہا کہ میں نے آپ کو روزہ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ روزہ یقینا ثواب کی چیز ہے لیکن یہاں نہیں۔ یعنی بعض مقامات پر روزہ کے مقابلے میں دوسرے اعمال کا ثواب زیادہ ہوتا ہے جیسے جہاد وغیرہ۔ اسی طرح سفر میں روزہ نہ رکھنا بھی بعض اوقات افضل ہوجاتا ہے۔
حواشی
(١) في [ص]: (بشير).
(٢) في [أ]: زيادة (محمد بن).
(٣) في [أ]: (سمعك).
(٤) في [ص، ك]: (ذكرته).
(٥) سقط من: [أ، ص، ز، ك].
(٦) في [ك]: (قرابة).
(٧) سقط من [ب، هـ].
(٨) منقطع؛ ميمون لم يسمع من أبي ذر.