مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة على غير الأنبياء ﵈ باب: انبیائ کے علاوہ کسی پر درود پڑھنے کا بیان
٨٩٥٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأسود بن قيس عن (نبيح) (١) عن جابر قال: أتيت النبي ﷺ استعينه في دين كان على أبي قال: انصرف (٢) أنا آتيكم فأتانا وقد قلت للمرأة لا (تكلمن) (٣) رسول اللَّه ولا تؤذينه فلما خرج قالت المرأة: يا رسول اللَّه صل عليّ وعلى زوجي فقال: "صلى اللَّه عليك وعلى زوجك"، قالت: (يا) (٤) رسول اللَّه: تأتينا ولا (تدعو) (٥) لنا (٦).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ایک قرضے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم چلے جاؤ، میں خود تمہارے گھر آتا ہوں۔ میں نے گھر آکر اپنی بیوی سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا اور آپ کو تکلیف نہ دینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے رحمت کی دعا کردیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل فرمائے۔ اس عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ہمیں کیوں نہیں بلالیا۔