حدیث نمبر: 8865
٨٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: في رجل دخل مع الإمام يوم الجمعة فرعف فذهب فتوضأ ثم جاء وقد صلى الإمام ولم يتكلم الرجل قال سفيان: يصلي صلاة الإمام ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سفیان سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی جمعہ کے دن امام کے ساتھ جماعت میں داخل ہوا، پھر اس کی نکسیر جاری ہوگئی، جب وہ وضو کرکے آیا تو امام نماز پڑھ چکا تھا، لیکن اس نے کسی سے بات نہیں کی، اب وہ کیا کرے ؟ حضرت سفیان نے فرمایا کہ وہ امام کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھے۔ حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ وہ چار رکعتیں پڑھے البتہ اگر اس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لی ہو تو پھر دو رکعتیں پڑھے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8865، ترقيم محمد عوامة 8720)