مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الراعي يجمع بين الصلاتين باب: کیا چرواہا دو نمازوں کو جمع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 8477
٨٤٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة أن رجلًا جاء (إلى) (١) سعيد بن المسيب فقال: إني راعي إبل، (أطلبها) (٢) حتى إذا (أمسيت) (٣) صليت المغرب ثم طرحت (نفسي) (٤) فرقدت عن العتمة، فقال: لا ⦗٢٩٤⦘ تنم حتى (تصليها) (٥) فإن خفت أن ترقد فاجمع بينهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت سعید بن مسیب کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں اونٹوں کا چرواہاہوں۔ میں انہیں تلاش کرتا ہوں اور جب شام ہوتی ہے میں مغر ب کی نماز پڑھتا ہوں۔ پھر میں اپنے نفس کو آرام دیتا ہوں پھر میں عشاء کی نماز سے پہلے سو جاتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہ سوؤ اگر تمہیں نیند کا خوف ہو تو دو نوں نمازوں کو جمع کرلو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أبي).
(٢) في [هـ]: (أحالبها).
(٣) في [ز]: (سيت).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [ز]: (تصلنها).