مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في مسيرة كم يقصر الصلاة؟ باب: کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
حدیث نمبر: 8356
٨٣٥٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن الغاز (بن) (١) ربيعة (الجرشي) (٢) عن عطاء بن (أبي) (٣) رياح قال: قلت لابن عباس أقصر إلى عرفة؟ فقال: لا (قلت) (٤) أقصر (إلى مر؟) (٥) قال: لا قلت: أقصر إلى الطائف وإلى عسفان؟ قال: نعم وذلك ثمانية وأربعون ميلا وعقد بيده (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا میں عرفہ میں قصر کروں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا کہ مرّ کے سفر میں قصر کروں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا کہ طائف اور عسفان کے سفر میں قصر کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، یہ اڑتالیس میل ہے۔ اور اپنے ہاتھ سے گنا۔
حواشی
(١) في [أ، هـ، ك، ص]: (عن)، وهو الموافق لما في عمدة القاري ٧/ ١٢٥، والاستذكار ٢/ ٢٣٥، ومن شيوخ هشام: ربيعة أخوه كما في تهذيب الكمال ٣٠/ ٢٥٨، وعندي أن الصواب (بن) كما في [ب] لأن جد هشام هو ربيعة الجرشي، وهشام يروي عن عطاء مباشرة بل هو من تلاميذه الملازمين له؛ وبذلك جاء المحلى ٥/ ٥.
(٢) في [ص]: (الحرشي).
(٣) في [ك]: (لي).
(٤) في [أ، ز، ك]: (قال).
(٥) في [ز]: (قال من).