حدیث نمبر: 8071
٨٠٧١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن (معمر) (١) بن عبد الرحمن قال: صليت إلى جنب رجل من أصحاب عبد اللَّه فمسست الحصى فلما صلى قال: قال عبد اللَّه: لا يسألن أحدكم ربه شيئا من (الخير) (٢) وفي (يده) (٣) (الحجر) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ کے شاگردوں میں سے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو ہاتھ لگایا۔ نماز پوری کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پتھر ہو تو اپنے رب سے کسی خیر کا سوال نہ کرے۔
حواشی
(١) كذا في النسخ والمطالب العالية (٤٠٥٦)، وعند عبد الرزاق (٣٣١٥): (معن)، ولعله الصواب، انظر: الجرح والتعديل ٨/ ٢٧٧، وتهذيب الكمال ٢٨/ ٣٣٣.
(٢) في [ك]: (خير).
(٣) في [أ، ز]: (يديه).
(٤) سقط من: [أ].
(٥) مجهول؛ لإبهام راوية، أخرجه ابن أبي عمر كما في المطالب (٤٠٥٦)، وعبد الرزاق (٣٣١٥).