حدیث نمبر: 8069
٨٠٦٩ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير (عن) (١) مولى عطية قال: صليت إلى جنب قيس بن عباد فأخذت عودا فرفعته إلى في فضرب ذقني فلما صلى قلت له ما حملك وقد أعجبني فقال: كان يقال من عبث بشيء في صلاته كان حظه من صلاته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار مولی عطیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قیس بن عباد کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے نماز میں ایک لکڑی کو پکڑ کر اپنے منہ سے لگایا تو انہوں نے میری ٹھوڑی پر مارا۔ جب انہوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ایسے فعل کا ارتکاب کیوں کیا جس نے مجھے تعجب میں ڈال دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہا جاتا تھا کہ جس شخص نے اپنی نماز میں کوئی فضول کام کیا تو اس کے بقدر اس کی نماز میں سے کمی کرلی جاتی ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ]، ومولى عطية اسمه دينار، وانظر: التاريخ الكبير ٣/ ٢٤٦، والجرح والتعديل ٣/ ٤٣٣، والكنى لسلم ٢/ ٦٣٨، والثقات ٦/ ٢٩١.