حدیث نمبر: 7930
٧٩٣٠ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه أبو (مري) (١) عن نصر المعلم قال: حدثني عمر ابن عثمان قال: سألت الحسن (فقلت) (٢): يا أبا سعيد يجيء رمضان أو يحضر رمضان فيقوم الناس في المساجد فما ترى؟ أقوم مع الناس أو أصلي أنا لنفسي؟ قال: تكون أنت تفوه (بالقرآن) (٣) أحب إلي من أن يفاه عليك به.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ اے ابو سعید ! رمضان میں لوگ تراویح پڑھتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ پڑھوں یا اکیلے پڑھوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم خود قرآن پڑھو یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ تمہیں کوئی اور قرآن پڑھ کرسنائے۔

حواشی
(١) في [ك]: (نوى).
(٢) في [ب، ك]: (قلت).
(٣) في [ط، هـ]: (القرآن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7930
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7930، ترقيم محمد عوامة 7801)