مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره أن يبزق تجاه المسجد باب: جن حضرات کے نزدیک مسجد میں بلغم ڈالنا یا تھوکنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 7651
٧٦٥١ - حدثنا حفص عن حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ أبصر نخامة في المسجد فمسحها، ثم قال: "إذا بزق أحدكم فلا يبزق في القبلة ولا عن يمينه ولكن ليبزق عن يساره أو تحت قدمه أو (ليصنع) (١) أو (ليقل) (٢) هكذا" (٣)، ثم بزق في طرف ثوبه، ثم رده عليه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں تھوک پڑی دیکھی تو اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کسی نے تھوکنا ہو تو قبلے کی طرف اور دائیں جانب نہ تھوکے۔ بلکہ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو یوں کرلے۔ یہ فرما کر آپ نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور اسے مل دیا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (ليضع).
(٢) في [هـ]: (فليتفل).
(٣) في [هـ]: زيادة (حدثنا).