٧٠٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد أن محمد بن يحيى بن (حبان) (١) (أخبره) (٢) (أن) (٣) [ابن محيريز (القرشي) (٤) (٥) أخبره عن المخدجي رجل ⦗٥٠١⦘ من بني كنانة أنه أخبره أن] (٦) رجلًا من الأنصار كان بالشام يكنى أبا محمد وكانت له صحبة كان يقول: الوتر واجب، فذكر (المخدجي) (٧) أنه راح إلى عبادة بن الصامت فذكر ذلك له فقال عبادة: كذب أبو محمد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "خمس صلوات كتبهن اللَّه على العباد من جاء بهن لم (٨) يضيع من حقهن شيئًا جاء وله عند اللَّه عهد (أن يدخله اللَّه الجنة) (٩) ومن (انتقم) (١٠) من حقهن شيئا جاء (وليس) (١١) له عند اللَّه عهد إن شاء عذبه وإن شاء أدخله الجنة" (١٢).بنو کنانہ کے ایک شخص جن کا نام مخدجی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ شام میں موجود ایک انصاری صحابی ابو محمد فرمایا کرتے تھے کہ وتر واجب ہیں۔ مخدجی فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد جھوٹ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ نمازیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض فرمایا ہے۔ جس شخص نے ان نمازوں کو اس طرح ادا کیا کہ ان کے حق میں کمی نہ کی تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت میں د اخل کرے۔ جس نے ان نمازوں کے حق میں کمی کی اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کردے۔