حدیث نمبر: 7028
٧٠٢٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن مسلم مولى (لعبد) (١) القيس قال: قال رجل لابن عمر: أرايت الوتر سنة (هو) (٢)؟ قال: فقال: ما سنة، أوتر رسول اللَّه ﷺ وأوتر المسلمون [قال: لا، أسنة هو؟ فقال: مه، (أتعقل) (٣)؟ أوتر رسول اللَّه ﷺ وأوتر المسلمون] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسلم مولی عبد القیس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ آپ کے خیال میں وتر سنت ہیں یا کچھ اور ؟ انہوں نے فرمایا کہ سنت کیا ہوتی ہے ؟ اللہ کے رسول حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں ! اس آدمی نے کہا کہ نہیں، یہ سنت ہیں یا نہیں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رک جاؤ، کیا تم سمجھتے نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل اسلام نے وتر پڑھے ہیں۔

حواشی
(١) في [ب، هـ]: (عبد).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [هـ]: (أتغفل؟).
(٤) ما بين المعكوفين سقط من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7028
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٤٨٣٤)، ومالك في الموطأ (١/ ١٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7028، ترقيم محمد عوامة 6921)