مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يوتر بثلاث أو أكثر باب: جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 6997
٦٩٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (قال) (١) ذكرت ⦗٤٩٤⦘ (لسعيد) (٢) ابن جبير قول عبد اللَّه الوتر بسبع أو (بخمس ولا) (٣) أقل من ثلاث (فقال) (٤) سعيد: قال ابن عباس: إني لأكره أن (يكون) (٥) ثلاث بتر ولكن سبعًا أو خمسًا (٦).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے سامنے حضرت عبد اللہ کے اس قول کا ذکر کیا ” وتر سات یا پانچ ہیں یا پھر یہ تین سے کم نہیں “ اس پر حضرت سعید نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں اس بات کو مکروہ سمجھتا ہوں کہ نامکمل تین رکعتں ی پڑھی جائیں۔ بلکہ وتر سات یا پانچ رکعت ہونے چاہئیں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [ب]: (سعيد).
(٣) في [ب]: مطموسة.
(٤) في [أ]: (وقال).
(٥) في [أ]: (تكون).
(٦) قول ابن مسعود منقطع، وقول ابن عباس صحيح الإسناد.