مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يستحب أن يصلي الركعتين بعد المغرب في بيته باب: جو حضرات اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ مغرب کے بعد دور کعتیں گھر میں پڑھی جائیں
حدیث نمبر: 6526
٦٥٢٦ - حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن (عمر) (١) بن قتادة عن محمود بن لبيد قال: أتى رسول اللَّه ﷺ مسجد (٢) بني (عبد) (٣) الأشهل (فصلى) (٤) بهم المغرب فلما سلّم قال: "اركعوا هاتين الركعتين في بيوتكم" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عبد الاشہل کی مسجد میں تشریف لائے اور آپ نے انہیں مغرب کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ ان دو رکعتوں کو اپنے گھر میں پڑھو۔ راوی عمر بن قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت محمود بن لبید اپنی قوم کے امام تھے، وہ مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد مسجد کے صحن میں بیٹھ جاتے اور عشاء کا وقت داخل ہونے سے پہلے اپنے گھر جا کر مغرب کی دو سنتیں ادا کیا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عمرو).
(٢) في [ب]: زيادة (في).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ]: (صلى).