مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
المرأة تصلي ولا تغطي شعرها باب: اگر عورت بالوں کو نہ ڈھانپے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 6358
٦٣٥٨ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه أنه أرسل امرأة إلى عائشة فرأت جارية (لها جمة) (١) فقالت: لو استَتَرت هذه كان (أخير) (٢) (٣) (فقالت) (٤): إنها لم تحض ولا (بدا) (٥) بعد الحيض (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک لڑکی دیکھی جس کے بال نظر آ رہے تھے۔ اس عورت نے اس لڑکی کے بارے میں کہا کہ یہ اگر بالوں کو چھپا لیتی تو اچھا ہوتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ ابھی تک بالغ نہیں ہوئی اور ابھی تک اس کا حیض ظاہر نہیں ہوا۔
حواشی
(١) في [أ]: (له عمه).
(٢) في [أ]: (أخبر)، وفي [ب]: (أجر)، وفي [ك، هـ]: (أحر)، وفي [ط]: (أحرى بها).
(٣) في [هـ]: زيادة (بها).
(٤) في [أ]: (تعالت).
(٥) في [ب]: (بعد).