مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره ذلك باب: جن حضرات کے نزدیک چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 6273
٦٢٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن فضيل عن حصين عن الهيثم بن شهاب أنه رأى رجلًا (٢) (من) (٣) قومه وهو يصلي قاعدًا متربعا فنهاه فأبى أن يطيعه فقال الهيثم: سمعت عبد اللَّه بن مسعود (يقول) (٤) لأن أقعد على (رضفتين) (٥) أحب إليّ من أن أقعد متربعًا في الصلاة (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہیثم بن شہاب نے ایک آدمی کو دیکھا جو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن اس نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت ہیثم نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر گرم کئے ہوئے پتھروں پر بیٹھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھوں۔
حواشی
(١) في [ب، جـ، ك]: (نا).
(٢) في [أ]: زيادة (صلى).
(٣) في [أ، ب]: (في).
(٤) سقط من: [ب، هـ].
(٥) في [أ، ب، جـ]: (رضعنين).
(٦) مجهول؛ لجهالة الهيثم بن شهاب، وأخرجه عبد الرزاق (٣٠٥٢ و ٤١٠٨)، وابن سعد ٦/ ١٩٨، والطبراني (٩٣٩٢)، والطحاوي في شرح المشكل ١٣/ ٢٤٢.