مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الرجل يتوضأ أو يغتسل، فينسى اللمعة من جسده باب: اگر وضو یا غسل کرتے وقت آدمی کے جسم کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 453
٤٥٣ - حدثنا معن (بن عيسى) (١) عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه توضأ يومًا، فترك في مرفقه شيئا (يسيرا) (٢) فقيل له في ذلك؟ فغسل ذلك المكان.مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ سالم بن عبد اللہ ایک دن وضو فرما رہے تھے کہ ان کی کہنی کے پاس تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی۔ انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے وہ جگہ بھی دھو لی۔
حواشی
(١) في [د]: (عن عيسى).
(٢) سقط من: [د].