مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
الرجل يقرأ السجدة بعد العصر وبعد الفجر باب: اگر کوئی آدمی عصر اور فجر کے بعد آیت سجدہ کی تلاوت کرے تو کیا وہ سجدہ کرے گا ؟
حدیث نمبر: 4393
٤٣٩٣ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم عن الرجل يقرأ السجدة بعد العصر فقال الحكم: قدم علينا رجاء بن حيوة (١) زمان (بشر) (٢) بن مروان وكان قاص العامة فكان يقرأ السجدة بعد العصر فيسجد.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عصر کے بعد آیت سجدۃ کی تلاوت کرے۔ حضرت حکم نے فرمایا کہ بشربن مروان کے زمانے میں حضرت رجاء بن حیوۃ ہمارے ہاں تشریف لائے، انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا۔ وہ عصر کے بعد آیت سجدہ کی تلاوت کرتے تو سجدہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کسی نماز کا وقت ہو تو کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (حياة).
(٢) في [جـ، ك]: (بشير)، وفي [د، هـ]: (بن بشير).