٣٥٩١٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: بعث النبي ﷺ عمرو بن العاص في غزوة ذات السلاسل فأصابهم برد شديد فقال: لا يوقدن رجل نارًا، ثم قاتل القوم، فلما قدموا على النبي ﷺ شكوا ذلك إليه، ⦗٥٢٩⦘ فقال: يا رسول اللَّه كان في أصحابي قلة، وخشيت أن يرى القوم قلتهم، ونهيتهم أن يتبعوا العدو مخافة أن يكون لهم كمين من وراء الجبل، قال: فأعجب ذلك رسول اللَّه ﷺ (١).حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل میں امیر بنا کر روانہ فرمایا، ان کے لشکر کو سخت سردی لگی، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا کہ کوئی شخص آگ مت جلائے پھر ان کی دشمن سے لڑائی ہوئی، پھر جب لشکر واپس آیا تو انہوں نے حضور ﷺ سے اس بارے میں شکایت کی، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرا لشکر تھوڑا تھا مجھے ڈر تھا کہ اگر آگ روشن کی تو دشمن ہماری قلت کو دیکھ لے گا اور میں نے ان کو دشمن کا پیچھا بھی اسی وجہ سے کرنے سے منع کردیا تھا کہ کوئی دشمن پہاڑ پر کمین نہ لگائے بیٹھا ہو، راوی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کو یہ طریقہ اور چال بہت پسند آئی۔