حدیث نمبر: 35908
٣٥٩٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا الوليد بن عبد اللَّه بن جميع قال: حدثتني جدتي و (عبد الرحمن) (١) بن خلاد الأنصاري عن أم ورقة بنت نوفل أن النبي ﷺ لما ⦗٥٢٦⦘ غزا بدرا قالت: قلت: يا رسول اللَّه ائذن لي في أن أغزو معك، أداوي جرحاكم وأمرض مرضاكم لعل اللَّه يرزقني شهادة، قال: "قري في بيتك فإن اللَّه يرزقك الشهادة"، قال: فكانت تسمى الشهيدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام ورقۃ بنت نوفل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کیلئے روانہ ہونے لگے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی اپنے ساتھ جہاد پر جانے کی اجازت عنایت فرما دیں، میں آپ کے زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی شاید کہ اللہ مجھے بھی شہادت کی موت نصیب فرما دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اپنے گھر میں رہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھے شہادت (کا ثواب) دے دیا ہے، فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میرا نام شہیدہ پڑگیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن خلال وجدة الوليد، أخرجه أحمد (٢٧٢٨٢)، وأبو داود (٥٩٥)، وابن خزيمة (١٦٧٦)، وابن سعد ٨/ ٤٥٧، والبيهقي ١/ ٤٠٦، والحاكم ١/ ٢٠٣، والطبراني ٢٥/ (٣٢٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٦٦)، وابن الجارود (٣٣٣)، والدارقطني ٣/ ١١٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35908
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35908، ترقيم محمد عوامة 34345)