مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يغزو ووالداه حيان أله ذلك؟ باب: کوئی شخص جہاد پر جائے جب کہ اس کے والدین حیات ہوں، اس کو اس کی اجازت ہے؟
٣٥٧٠٧ - حدثنا ابن عيينة (عن موسى بن عقبة) (١) عن سالم أو عبد اللَّه بن (عتبة) (٢): أراد محمد بن طلحة الغزو فأتت أمه عمر فأمره أن يقيم، فلما ولي ⦗٤٧٤⦘ عثمان أراد الغزو فأتت أمه عثمان، فأمره أن يقيم فقال: إن عمر لم يجبرني أو تعزم علي، (فقال) (٣): لكني أجبرك (٤).حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت محمد بن طلحہ نے جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انہوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے پھر جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انہوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا اور فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر جبر نہیں فرمایا تھا لیکن میں آپ پر جبر کروں گا۔