مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يغزو ووالداه حيان أله ذلك؟ باب: کوئی شخص جہاد پر جائے جب کہ اس کے والدین حیات ہوں، اس کو اس کی اجازت ہے؟
٣٥٧٠٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة عن أبيه طلحة بن معاوية السلمي قال: جئت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه إني أريد الجهاد معك في سبيل اللَّه ابتغي بذلك وجه اللَّه، قال: "حية أمك؟ " ⦗٤٧٣⦘ قلت: نعم، قال: "الزمها"، قلت: ما (أرى) (١) (فهم) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣) (عنى) (٤)، فأعدت عليه مرارا فقال: "الزم رجليها، فثمَّ الجنة" (٥).حضرت طلحہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں اور اس کے ذریعہ اللہ کی خوشنودی کا طالب ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں : فرمایا ان کی خدمت کو لازم پکڑو میں نے عرض کیا میرا نہیں خیال نہ اللہ کے نبی ﷺ میری بات سمجھے ہوں، میں نے بار بار اپنی بات دھرائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی والدہ کے پاؤں پکڑ لو (خدمت کرو) جنت وہاں ہی ہے۔