مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
(باب من أسلم على شيء فهو له) باب: کوئی شخص کسی شرط پر مسلمان ہو اس کو وہ (مطلوبہ چیز) ملے گی
٣٥٦٧٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا أبان بن عبد اللَّه البجلي قال: ثنا عثمان بن أبي حازم عن صخر بن (العيلة) (١) قال: أخذت عمة المغيرة فقدمت بها إلى رسول اللَّه ﷺ، وجاء المغيرة بن شعبة فسأل رسول اللَّه ﷺ (عمته) (٢) وأخبر أنها عندي، فدعاني رسول اللَّه ﷺ فقال: "يا صخر، إن القوم إذا أسلموا أحرزوا أموالهم"، قال: فدفعناها إليه ﷺ وقد كان رسول اللَّه ﷺ أعطاني (ماء لبني) (٣) سليم فأسلموا فأتوا نبي اللَّه ﷺ فسألوه الماء، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا صخر، إن القوم إذا ⦗٤٦٥⦘ أسلموا أحرزوا أموالهم ودماءهم فادفعه إليهم"، فدفعته (٤).حضرت صخر بن عیلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ کے چچا کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اتنے میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اپنے چچا کا پوچھا، ان کو خبر دی کہ وہ میرے پاس ہے، مجھے رسول اکرم ﷺ نے بلایا اور فرمایا : اے صخر ! جب قوم مسلمان ہوجائے، تو وہ اپنے اموال کو محفوظ کرلیتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو دے دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنو سلیم کیلئے پانی عطا فرمایا، پس وہ مسلمان ہوگئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کا سوال کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صخر ! جب قوم مسلمان ہوجائے تو وہ اپنی جان اور مال کو بچا لیتے ہیں، پس اس کو واپس کر دے، پس پھر میں نے اس کو واپس کردیا۔