مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يسلم وهو في دار الحرب فيقتله الرجل (وهو ثم) باب: کوئی شخص دارالحرب میں اسلام قبول کرے اور اس کو وہیں پر کوئی شخص قتل کر دے
٣٥٦٧٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ [النساء: ٩٢]، الرجل يُقتل وقومه مشركون، ليس بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فتحرير رقبة مؤمنة، فإن قتل مسلم من قوم مشركين وبينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فعليه رقبة مؤمنة، وتؤدى ديته إلى قومه الذين بينهم ⦗٤٦٤⦘ وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فيكون ميراثه للمسلمين ويكون عقله عليهم (لقومه) (١) المشركين الذين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فيرث المسلمون ميراثه ويكون عقله لقومه؛ لأنهم يعقلون عنه.ابراہیم قرآن کریم کی آیت { فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ آدمی مارا جائے اور اس کی قوم مشرک ہو، اس کے اور اللہ کے رسول ﷺ کے درمیان کوئی معاہدہ بھی نہ ہو، تو مومن غلام کو آزاد کریں گے اور اگر مسلمان کسی ایسے مشرک کو قتل کر دے جس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ ہو، اس پر مومن غلام آزاد کرنا ہے، اور دیت اس کی قوم کو دے دی جائے گی جس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا، اس کی وراثت مسلمانوں کی ہوگی، ان کی دیت مسلمانوں پر ہوگی اس کی مشرک قوم کیلئے جن کے اور اللہ کے رسول ﷺ کے درمیان معاہدہ ہے، مسلمان اس کی وراثت کے وارث ہوں گے۔ اس کی دیت اس کی قوم پر ہوگی کیوں کہ وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں۔