حدیث نمبر: 35527
٣٥٥٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن محمد قال: في المغنم خمس للَّه وسهم (للنبي) (١) ﷺ والصفي (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد غنیمت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ غنیمت میں خمس اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے نبی کا حصہ ہے اور غنیمت میں اللہ کے نبی ﷺ کے لیے صفی ہے۔ (صفی وہ خاص حصہ جس کو اللہ کے نبی ﷺ تقسیم غنیمت سے قبل ہی اپنے لیے الگ فرما لیں) حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی کے لیے غنیمت میں بہترین قیدی کو الگ کیا گیا، پھر خمس نکا لا گیا، پھر لوگوں کے حصہ میں سے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب حصہ نکالا گیا۔ حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت صفیہ بنت حیی کو بطور صفی الگ فرما لیا تھا۔ اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خیبر والے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی کو الگ فرما لیا تھا پھر ان سے نکاح فرما لیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (النبي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35527
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ ابن سيرين تابعي، وأشعث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35527، ترقيم محمد عوامة 33982)