مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كره الفداء بالدراهم وغيرها باب: جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 35474
٣٥٤٧٤ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: قتل (قتيل) (١) يوم الخندق فغلب المسلمون المشركين على (جيفته) (٢) فقالوا: (ادفعوا) (٣) إلينا جيفته ونعطيكم عشرة آلاف (درهم) (٤)، فذكر ذلك للنبي ﷺ فقال: "لا حاجة لنا في جيفته ولا ديته، إنه خبيث الدية خبيث الجيفة" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : خندق والے دن کچھ کفار مارے گئے، مسلمان کفار کے لاشوں پر غالب آگئے، مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ ہماری لاشیں ہمارے حوالے کردو، ہم اس کے بدلہ دس ہزار دراہم دیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں تمہاری لاشوں (مردار لاشوں) اور دیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ خبیث دیت اور خبیث لاشیں ہیں۔
حواشی
(١) في [أ]: (قبيل)، وفي [ب]: (قيبل).
(٢) في [ب]: (خيفته).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (ارفعوا).
(٤) في [أ]: (دربهم)، وفي [ط، هـ]: (دراهم).
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٣٠١٣)، والترمذي (١٧١٥)، وابن عدي ٢/ ١٩٥، والخطيب في الأسماء المبهمة ٤/ ٣١٦.